متحدہ عرب امارات

رمضان المبارک میں روزے کے ابتدائی دن اکثر افراد کے لیے مشکل ثابت ہوتے ہیں، جن میں سر درد، کمزوری، ڈی ہائیڈریشن اور توانائی کی کمی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

 خلیج اردو
ماہرین صحت کے مطابق رمضان سے چند ہفتے قبل جسمانی تیاری کے ذریعے ان مسائل میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

میڈیور اسپتال دبئی کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر بھانوپرکاش کڈابا بھاسکر کا کہنا ہے کہ
“رمضان کی تیاری مثالی طور پر چھ سے آٹھ ہفتے پہلے شروع ہونی چاہیے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔”

لائف کیئر اسپتال مسفحہ کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر حسینہ این ایم کے مطابق صحت مند افراد کے لیے دو سے چار ہفتے کی تیاری کافی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
“اچانک خوراک میں تبدیلی جسم پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے بتدریج تیاری ضروری ہے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل اچانک کھانے پینے کے معمولات بدلنے سے روزہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر بھانوپرکاش کے مطابق
“اصل حل اچانک پابندی نہیں بلکہ خوراک میں بتدریج بہتری ہے۔”

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ رمضان سے پہلے ایسی غذا کا انتخاب کیا جائے جو دیرپا توانائی فراہم کرے، جن میں ثابت اناج، جئی، براؤن رائس، سبزیاں، پھل اور دالیں شامل ہیں، جبکہ پروٹین پٹھوں کی کمزوری سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

ڈاکٹر بھانوپرکاش کا کہنا ہے کہ
“ریفائنڈ شوگر اور چکنائی سے بھرپور کھانوں کا زیادہ استعمال رمضان میں روزے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔”

ماہرین نے رمضان سے قبل کیفین کے استعمال میں بتدریج کمی پر بھی زور دیا ہے۔
ڈاکٹر بھانوپرکاش کے مطابق
“اچانک کیفین چھوڑنے سے روزے کے پہلے دن سر درد اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔”

ڈاکٹر حسینہ کا کہنا ہے کہ سحری اور افطار کے اوقات سے پہلے کھانے کے اوقات میں تبدیلی جسمانی گھڑی کو روزے کے معمول کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین نے پانی کے درست استعمال پر بھی زور دیا ہے۔
ان کے مطابق چائے، کافی اور سافٹ ڈرنکس پانی کا نعم البدل نہیں، جبکہ افطار سے سحری کے درمیان پانی کو وقفے وقفے سے پینا زیادہ مؤثر ہے۔
فوٹیج: نیٹ

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دائمی امراض میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے سے قبل لازمی طبی مشورہ لینا چاہیے، کیونکہ عبادت کے ساتھ صحت کا تحفظ بھی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button