
خلیج اردو
ٹام ٹام ٹریفک انڈیکس کے مطابق بڑھتی آبادی کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس سے ٹریفک دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 15 منٹ میں طے ہونے والا اوسط فاصلہ 7.8 کلومیٹر رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.2 کلومیٹر کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رش کے اوقات میں اوسط رفتار 26.3 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جو 2024 کے مقابلے میں ایک کلومیٹر فی گھنٹہ کم ہے، جبکہ ہائی ویز پر اوسط رفتار بھی کم ہو کر 70.5 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ گئی۔
2025 میں دبئی کی آبادی پہلی بار 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جس کے ساتھ ہی گاڑیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک سالک کے مطابق دبئی میں فعال رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 46 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق دبئی میں روزانہ دیگر امارات خصوصاً شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی سے بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں داخل ہوتی ہیں، جو ٹریفک دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔
ٹام ٹام انڈیکس کے مطابق 2025 میں موٹرسٹ نے ٹریفک جام میں 72 گھنٹے ضائع کیے، جو تین دن اور پچاس منٹ کے برابر ہیں، یہ وقت گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.23 گھنٹے زیادہ ہے۔
سب سے زیادہ رش والا دن 11 نومبر رہا، جب دن بھر اوسط رش 73 فیصد جبکہ شام 5 بجے 168 فیصد تک پہنچ گیا، اس دن 4 کلومیٹر کا سفر اوسطاً 15 منٹ میں مکمل ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق شام کے وقت ٹریفک کی صورتحال صبح کے مقابلے میں زیادہ خراب رہی، صبح 10 کلومیٹر کا سفر 18.4 منٹ جبکہ شام میں یہی فاصلہ 26.3 منٹ میں طے ہوا۔






