متحدہ عرب امارات

بھارتی روپیہ اماراتی درہم کے مقابلے میں 25 روپے سے تجاوز کر گیا، گراوٹ کی وجوہات اور اثرات

خلیج اردو
بھارتی روپیہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 92 روپے کی ریکارڈ سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جس کے باعث اماراتی درہم کے مقابلے میں بھی شرح مبادلہ تقریباً 25 روپے فی درہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر خلیج سے وابستہ مسافروں، طلبہ، درآمد کنندگان اور ترسیلات بھیجنے والوں پر پڑ رہا ہے۔

کرنسی ماہرین کے مطابق 27 جنوری کو اگرچہ روپیہ معمولی طور پر مستحکم ہوا، جس کی وجہ ڈالر کی قدر میں ہلکی کمی اور تجارتی معاہدوں سے متعلق امیدیں تھیں، تاہم مجموعی رجحان اب بھی کمزوری کا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپیہ کسی ایک بڑے واقعے کی وجہ سے نہیں بلکہ کئی دباؤ کے عوامل کے باعث نیچے جا رہا ہے، جن میں عالمی شرحِ سود، غیر ملکی سرمایہ کا اخراج، بلند درآمدی بل اور کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی بڑھتی طلب شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق، “جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیاں، بشمول بھارتی روپیہ، دباؤ میں آ جاتی ہیں”۔

حالیہ دنوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارتی شیئرز اور بانڈز کی فروخت نے بھی روپے پر دباؤ بڑھایا، کیونکہ اس عمل میں روپیہ ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب درآمد کنندگان نے ممکنہ مزید گراوٹ کے خدشے کے پیش نظر پیشگی ڈالر خریدنا شروع کر دیے، جبکہ برآمد کنندگان نے بہتر ریٹ کی امید میں ڈالر فروخت کرنے میں تاخیر کی، جس سے مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہوا۔

خلیج میں مقیم افراد کے لیے درہم کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اماراتی درہم امریکی ڈالر سے منسلک ہے، اس لیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری براہِ راست درہم کے مقابلے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کسی مخصوص سطح پر روپے کو “بچانے” کے بجائے صرف غیر منظم اتار چڑھاؤ کو روکنے پر توجہ دے رہا ہے۔ گورنر سنجے ملہوترا کے مطابق، “ملک کی معاشی مضبوطی کا اندازہ صرف کرنسی کی قدر سے نہیں لگایا جا سکتا”۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر کی عالمی سطح پر قدر میں نرمی آئے، بھارت اور یورپی یونین کے ممکنہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت ہو، یا آر بی آئی مارکیٹ میں مداخلت کرے تو روپیہ کچھ حد تک مستحکم ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button