
خلیج اردو
دبئی نے عالمی سطح پر سرفہرست چار مالیاتی مراکز میں شامل ہونے کے ہدف کی جانب ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) کے دوسرے مرحلے، زعبیل ڈسٹرکٹ، کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ اس منصوبے کا افتتاح دبئی کے حکمران، نائب صدر اور وزیرِاعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کیا۔
شیخ محمد بن راشد کا کہنا تھا کہ
“ہماری قومی معیشت معیاری تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہی ہے، یہ توسیعی منصوبے بڑی ترقیاتی جست کے لیے ہیں اور ایک عالمی معاشی مرکز کے طور پر ہمارا مستقبل دن بدن مضبوط ہو رہا ہے۔”
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں شیخ محمد نے بتایا کہ اس میگا منصوبے کے تحت ڈی آئی ایف سی اکیڈمی کو توسیع دی جائے گی، جو سالانہ 50 ہزار طلبہ کو خدمات فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ ایک ملین اسکوائر فٹ پر مشتمل ڈیجیٹل اکانومی انوویشن ہب قائم کیا جائے گا، جہاں 6 ہزار کمپنیاں اور 30 ہزار مصنوعی ذہانت کے ماہرین کام کر سکیں گے۔
منصوبے میں آرٹس اینڈ کلچر سینٹر، کانفرنس سینٹر اور عالمی معیار کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی شامل ہوگا، جو مالیاتی اداروں کی معاونت کرے گا۔
100 ارب درہم مالیت کے اس منصوبے کے تحت 17 ملین اسکوائر فٹ کے رقبے پر 1 لاکھ 25 ہزار پیشہ ور افراد کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
2004 میں قیام کے بعد سے ڈی آئی ایف سی عالمی مالیاتی اداروں، جدت طراز کمپنیوں اور پروفیشنل سروسز کے لیے ایک پرکشش مرکز بن چکا ہے۔ اس کا نظام ڈی آئی ایف سی اتھارٹی، ڈی ایف ایس اے اور ڈی آئی ایف سی کورٹس پر مشتمل آزاد اداروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
یہ توسیعی منصوبہ دبئی لوپ سے بھی منسلک ہوگا، جو زیرِ زمین تیز رفتار ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے، جبکہ یہاں فلائنگ ٹیکسیاں اور خودکار گاڑیوں کی سہولت بھی میسر ہوگی۔
یہ پیش رفت دبئی میں بڑے انفراسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ منصوبوں کے سلسلے کی کڑی ہے، جن میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں مکمل ہونے والا ایک اور ڈی آئی ایف سی توسیعی منصوبہ بھی شامل ہے، جس سے آفس اسپیس میں 6 لاکھ اسکوائر فٹ کا اضافہ ہوگا۔
اعداد و شمار کے مطابق دبئی کی آبادی گزشتہ سال 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ ڈی آئی ایف سی میں نومبر کے اختتام تک 8 ہزار سے زائد فعال رجسٹرڈ کمپنیاں موجود تھیں، جن میں ہیج فنڈز کی تعداد 2024 کے بعد دوگنی ہو چکی ہے۔
ڈی آئی ایف سی کے مطابق منصوبے کا پہلا مرحلہ 2030 میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس میں چھ نئے آفس ٹاورز، دو رہائشی ٹاورز، ایک ہوٹل اور اے آئی کیمپس شامل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ڈی آئی ایف سی کی یہ توسیع دبئی کو عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے گی اور سرمایہ کاری و روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔







