
خلیج اردو
پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی منسوخی کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن کے مطابق یہ دعویٰ کہ ’’پاکستان نے یو اے ای کے ساتھ کوئی لیز یا معاہدہ منسوخ کیا‘‘ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اسلام آباد سمیت کسی بھی ایئرپورٹ کے لیے تاحال کوئی معاہدہ یا لیز سائن ہی نہیں کی گئی۔
حکومت پاکستان اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز آؤٹ سورس کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
بیان کے مطابق اگست میں حکومت نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے انتظام کی منتقلی کے لیے یو اے ای کے ساتھ جی ٹو جی ماڈل کے تحت فریم ورک طے کرنے کی منظوری دی تھی، جس میں مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل المدتی کمرشل کنسیشنز شامل تھے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ کو کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس کے ہمراہ ایکٹو پرائیویٹائزیشن پروگرام میں شامل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، سروس ڈیلیوری میں بہتری، آمدن میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں یو اے ای، ترکی، سعودی عرب اور دیگر بین الاقوامی فریقین سے بھی مشاورت کی گئی۔
پرائیویٹائزیشن کمیشن نے واضح کیا کہ نومبر 2025 میں سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی کے باعث حکومت نے جی ٹو جی ماڈل کے بجائے اوپن بڈنگ ماڈل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ تینوں ایئرپورٹس کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع مل سکیں۔
کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی یا سفارتی پس منظر کے بغیر، خالصتاً معاشی اور طریقہ کار کی بنیاد پر کیا گیا، جس کا مقصد شفافیت، منصفانہ مقابلہ اور قومی معیشت کے لیے بہتر نتائج حاصل کرنا ہے۔
2018 میں افتتاح ہونے والا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ماضی میں آپریشنل اور مالی مشکلات کا شکار رہا، اور ماہرین کے مطابق عالمی معیار کے بڑے ایئرپورٹس کا تجربہ رکھنے والے شراکت داروں کی شمولیت سے اس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔







