خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کو ایک بار پھر جوہری معاہدے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے بات چیت نہ کی تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔”
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، “امید ہے ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے — کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ یہ سب کے مفاد میں ہوگا، مگر وقت کم ہے، اور ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “میں نے پہلے بھی ایران کو کہا تھا، معاہدہ کرو۔ انہوں نے نہیں کیا اور ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ ہوا، جس میں ایران کو بھاری نقصان پہنچا۔ اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا۔”
ایران کی جانب سے ان بیانات پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ فوجی دھمکیوں کے سائے میں سفارتکاری ممکن نہیں۔ “اگر وہ واقعی مذاکرات چاہتے ہیں تو انہیں دھمکیاں، غیر ضروری مطالبات اور غیر منطقی نکات ترک کرنا ہوں گے۔”
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے میں کردار ادا کیا تھا، اور ٹرمپ آئندہ فوجی کارروائی کا امکان بھی بارہا ظاہر کر چکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں فوری امریکی حملے کے خدشات میں کمی دیکھی گئی تھی، کیونکہ دونوں فریق سفارتکاری کو موقع دینے کی بات کر رہے تھے، تاہم خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی صورتحال کو دوبارہ کشیدہ بنا رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں امریکی اسٹرائیک گروپ مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں پہنچ چکا ہے، تاہم اس کے درست مقام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔







