
خلیج اردو
اسلام آباد میں قانونی تعلیم اور وکالت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا نے پاکستان بار کونسل کے ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن کے تعاون سے منعقد کی۔
کانفرنس میں ملک بھر سے دو سو سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں عدالتی اکیڈمیز کے نمائندے، سابق ججز، بار کونسلز کے اراکین، سینئر و جونیئر وکلاء، قانونی ماہرین، قانون کے طلبہ، اصلاحاتی ماہرین اور لیگل ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد شامل تھے۔
کانفرنس میں قانونی تعلیم کی بہتری، وکلاء اور ججز کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، قانونی اخلاقیات، عدالتی آداب، کام کی جگہ پر ہراسانی اور قانونی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے انضمام جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔
پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین پیر مسعود چشتی نے کہا کہ ماضی میں دو سالہ ایل ایل بی پروگرام محدود وسائل کے باوجود معیاری وکلاء تیار کرتا تھا، تاہم بعد میں نجی لا کالجز کے پھیلاؤ اور طویل پروگرامز کے باعث معیار متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چار سالہ ایل ایل بی، نئے لا کالجز پر پابندی اور نصاب کی بہتری جیسے اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ابتدائی سیشن میں سینئر ججز، بار کونسل اراکین اور وکلاء نے ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پیشہ ورانہ معیار بلند کرنے پر زور دیا۔ شرکاء نے عملی تربیت، ریسرچ، اسپیشلائزیشن، اسٹرکچرڈ اپرنٹس شپ، مسلسل قانونی تعلیم اور نوجوان وکلاء کی مؤثر سرپرستی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
کانفرنس کے دوران قانونی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی سیشن منعقد کیا گیا، جہاں وزارت قانون و انصاف اور نجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرائے۔ پاکستان کوڈ اور ڈیجیٹل ڈاکومنٹ ریٹریول سسٹم سمیت مختلف پلیٹ فارمز کے عملی مظاہرے کیے گئے۔
شرکاء نے گروپ مباحثوں کے دوران قانونی نصاب کو جدید بنانے، بار ووکیشنل کورسز اور کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن کو مؤثر بنانے، اور ججز کے لیے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تربیت کی سفارشات مرتب کیں، جو متعلقہ اداروں کو بھجوائی جائیں گی۔
اختتامی سیشن میں مقررین نے قانونی نظام میں ہم آہنگ اصلاحات، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور شمولیت پر زور دیا۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان کے قانونی شعبے کو بدلتے تقاضوں کے مطابق مسلسل جدت اور بہتری کی ضرورت ہے۔







