
خلیج اردو
دبئی میں انقلابی زیرِ زمین ٹرانسپورٹ سسٹم "دبئی لوپ” کے پہلے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ منصوبہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ڈی آئی ایف سی) اور دبئی مال کے علاقوں میں شروع کیا جائے گا، جس پر مجموعی طور پر 2.5 ارب درہم لاگت آئے گی۔
یہ اعلان روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطائر نے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب کے دوران کیا۔ دبئی لوپ دنیا کا دوسرا شہر ہوگا جہاں یہ جدید نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، اس سے قبل یہ منصوبہ لاس ویگاس میں نافذ کیا گیا تھا۔
دبئی لوپ کو ایک علامتی منصوبہ قرار دیا گیا ہے، جس میں یک طرفہ زیرِ زمین سرنگوں کا نیٹ ورک شامل ہوگا، جو رہائشی، تجارتی اور سیاحتی علاقوں کو آپس میں جوڑے گا۔ اس نظام میں زیرِ زمین اور زمین کے اوپر دونوں اقسام کے اسٹیشنز شامل ہوں گے، جو فرسٹ مائل سے لاسٹ مائل تک تیز اور ہموار سفر فراہم کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق مکمل دبئی لوپ نیٹ ورک 24 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا، جس میں 19 اسٹیشنز شامل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں 6.4 کلومیٹر طویل روٹ پر 600 ملین درہم کی لاگت سے چار اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جو ڈی آئی ایف سی اور دبئی مال کے درمیان ہوں گے۔
آر ٹی اے کے روڈز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر حماد الشیحی نے کہا کہ تعمیراتی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اور منصوبہ فعال ہونے پر 100 گاڑیاں سرنگوں میں چلیں گی، جس سے ڈی آئی ایف سی سے دبئی مال کا سفر 20 منٹ سے کم ہو کر صرف تین منٹ رہ جائے گا۔
مطابق آر ٹی اے، ابتدائی مرحلے میں روزانہ 13 ہزار مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے پر عملدرآمد دی بورنگ کمپنی کے تعاون سے کیا جائے گا، اور اس کی تکمیل ایک سے دو سال میں متوقع ہے۔
حکام کے مطابق نئی ٹنلنگ ٹیکنالوجی کے باعث فی کلومیٹر لاگت تقریباً 70 ملین درہم رہے گی، جو روایتی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے تعمیراتی رفتار تیز اور شہری خلل کم ہوگا۔
آر ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ دبئی لوپ کے کرایوں کا تعین بعد میں کیا جائے گا، تاہم یہ دیگر سفری ذرائع کے مقابلے میں مسابقتی ہوں گے۔







