متحدہ عرب امارات

خورفکن کو مکمل جنگلات میں گھرا جدید ماحولیاتی شہر بنانے کا بڑا منصوبہ

خلیج اردو
شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے خورفکن کو "جنگلات میں گھرا شہر” بنانے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

شارجہ کے حکمران نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں آکسیجن کی مقدار زیادہ، کاربن ڈائی آکسائیڈ کم اور مثبت الیکٹرانز کی سطح میں اضافہ ہوگا، جس سے شہریوں کو سکون اور راحت ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ "ہم خورفکن کے پہاڑوں پر درخت لگانے پر کام کر رہے ہیں، ماہر کمپنیاں پہاڑوں سے اترنے والی وادیوں کے راستوں میں زمین کھود رہی ہیں تاکہ پانی ان گڑھوں میں جمع ہو اور اسی پانی سے درختوں کو سیراب کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ پانی وادیوں سے بہہ کر سمندر میں چلا جائے۔”

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انہوں نے زراعت سے متعلق مفید مشورے بھی دیے اور کہا کہ "گلاب کا پودا انتہائی حساس ہوتا ہے، اگر اسے ایسی مٹی میں لگایا جائے جس میں معمولی ریت بھی ہو تو اس کے پھول کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی جڑ خشک ہونے سے پھول ٹیڑھا یا نامکمل ہو جاتا ہے۔”

انہوں نے گھروں میں پھول لگانے کے خواہشمند افراد کو مشورہ دیا کہ پہاڑوں کے دامن سے خالص چکنی مٹی حاصل کی جائے اور سورج کی روشنی کے مناسب گزر کے لیے کپڑے کی چھتریاں استعمال کی جائیں جبکہ گلاب کے پودوں کی کانٹ چھانٹ مارچ سے پہلے مکمل کر لی جائے۔

اس موقع پر انہوں نے قصَد نامی درخت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بچپن کی یادیں بھی تازہ کیں اور بتایا کہ یہ صحرائی علاقوں میں اگنے والا درخت سخت موسمی حالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ شہریوں کیلئے صحت مند اور پُرسکون ماحول کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button