متحدہ عرب امارات

مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں، سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کر دی

خلیج اردو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر وارث مسیح کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عدالت نے قرار دیا کہ مرد عورتوں کے محافظ ہیں قاتل نہیں جبکہ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ احترام اور وقار کی حقدار ہیں

فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے جبکہ منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے

عدالت نے مزید کہا کہ کسی کو ماں بہن بیوی اور بیٹی کے مقدس رشتے کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ریاست جامع قانون سازی نفاذ کے مؤثر طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے

سپریم کورٹ کے مطابق خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل نو حق زندگی و آزادی اور آرٹیکل پچیس برابری کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے

استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی جمیلہ بی بی سے اکثر جھگڑا کرتا تھا جبکہ چھ جولائی دو ہزار پندرہ کی آدھی رات کو ملزم نے اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں رمشا اور رمیش کو ڈنڈوں کے وار کر کے شدید زخمی کیا

ملزم کی بیٹی رمشا وارث مسیح نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے والد کے خلاف گواہی دی جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کے باعث ہوئی

عدالت نے قرار دیا کہ جب بیوی گھر کے اندر مردہ حالت میں پائی جائے تو حالات کی وضاحت کی بنیادی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے تاہم ملزم ٹرائل کے دوران خاموش رہا اور اپنی بیوی کی غیر فطری موت کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا

وقوعہ کے بعد ملزم کا مفرور ہونا تدفین میں شریک نہ ہونا اور پولیس کو اطلاع نہ دینا بھی اس کے خلاف اہم شواہد قرار دیے گئے

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو بیوی کے قتل کے جرم میں سزائے موت جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قید بامشقت اور دیت کا پانچ فیصد جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button