
خلیج اردو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافی سہراب برکت کی گرفتاری کے بعد دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میان گل حسن اورنگزیب نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کی
صحافی سہراب برکت کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اور وہ اس وقت کوٹ لکھ پت جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر قید ہیں
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ہم نے 302 میں بھی ضمانتیں دی ہیں اس میں سزائے موت تو نہیں ہے، اس وقت پاکستان میں کتنے یوٹیوب چینل چل رہے ہیں، اور سہراب برکت نے انٹرویو کے دوران کچھ نہیں بولا جس نے بولا وہ ہمارے سامنے نہیں ہے
جسٹس نے یہ بھی کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت صرف ایک ادارے کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور ججز کے خلاف جو بولا جاتا رہا اس پر کچھ نہیں کیا گیا
جسٹس میان گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ صنم جاوید سب کو مروا کر چھوڑے گی
وکیل سہراب برکت بیرسٹر سعد رسول نے بتایا کہ مرکزی ملزم صنم جاوید ہیں اور ان کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا، چالان جمع کروا دیا گیا لیکن ہمیں رسائی نہیں دی گئی، فرد جرم بھی عائد نہیں ہوئی اور باقاعدہ ٹرائل شروع نہیں ہوا
جسٹس نعیم اختر افغان نے ایف آئی اے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ صنم جاوید کی تفتیش مکمل ہوئی ہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ تفتیش مکمل کرکے سپلیمنٹری چالان جمع کروا دیا ہے
جسٹس نے کہا کہ نومبر 2025 سے گرفتار اور جوڈیشل ہوچکے تو اب تفتیش کی ضرورت نہیں ہوگی، کل تک کا ٹائم دے دیں، فائل ابھی ملی ہے دیکھوں گا
عدالت نے واضح کیا کہ اس میں سب سامنے ہے کہ کسی ادارے کے خلاف بولا گیا ہے






