
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں خاندانی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران طلاق کی وجوہات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب صرف بے وفائی ہی شادی ٹوٹنے کی بنیادی وجہ نہیں رہی بلکہ جذباتی دوری، مالی دباؤ، بدلتی توقعات اور ڈیجیٹل زندگی کے اثرات ازدواجی تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں عدالتوں میں بے وفائی، ترکِ تعلق یا بدسلوکی جیسے الزامات زیادہ سامنے آتے تھے، لیکن حالیہ قانونی اصلاحات کے بعد بہت سے جوڑے بغیر کسی فریق کو قصوروار ثابت کیے بھی علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں، جس سے طلاق کی حقیقی وجوہات زیادہ واضح ہو کر سامنے آ رہی ہیں۔
خاندانی وکیل سمارا اقبال کے مطابق آج کے نوجوان جوڑے شادی سے صرف مالی استحکام نہیں بلکہ جذباتی تعاون، باہمی احترام، مؤثر رابطے، مشترکہ ذمہ داریوں اور بہتر شراکت داری کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے بقول مسلسل مصروفیات، کیریئر کا دباؤ اور خاندان سے دور رہنے کی وجہ سے کئی جوڑے وقت کے ساتھ ایک دوسرے سے جذباتی طور پر دور ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق سے پہلے اکثر تعلقات میں رابطے کا فقدان، مسائل پر بات چیت کا ختم ہو جانا، ایک ہی گھر میں ساتھی کے بجائے محض روم میٹ کی طرح رہنا اور معمولی اختلافات کا وقت کے ساتھ گہری ناراضی میں بدل جانا نمایاں علامات ہوتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اب یو اے ای میں شادی کے پہلے سال کے دوران طلاق کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اور تقریباً ایک تہائی طلاقیں پہلے ہی سال میں ہو رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض رشتے ابتدا ہی سے مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہوتے۔
رپورٹ کے مطابق مالی مشکلات بھی طلاق کے اہم عوامل میں شامل ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسہ خود مسئلہ نہیں بنتا بلکہ پہلے سے موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، کرایوں اور بچوں کی تعلیمی فیس جیسے عوامل ازدواجی تنازعات کو شدت دیتے ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز نے ازدواجی تعلقات میں نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ خفیہ آن لائن روابط، نجی چیٹس، اسکرین شاٹس اور واٹس ایپ پیغامات اب طلاق کے مقدمات میں بطور ثبوت بھی پیش کیے جا رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی بظاہر مثالی زندگی سے موازنہ بھی غیر حقیقی توقعات کو جنم دیتا ہے۔
خاندانی وکلاء کا کہنا ہے کہ بروقت بات چیت، ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا، مالی معاملات، بچوں کی پرورش اور مستقبل کی توقعات پر کھل کر گفتگو کرنا کئی شادیوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر کونسلنگ یا ثالثی سے بھی مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔







