متحدہ عرب امارات

عمان کے الحلاّنیات جزائر کے قریب آئل ٹینکر پھنسنے سے تیل کا اخراج، آلودگی 449 کلومیٹر تک پھیل گئی

خلیج اردو
عمان کے ظفار گورنریٹ میں الحلاّنیات جزائر کے قریب آئل ٹینکر کے سمندر میں پھنسنے کے بعد تیل کا اخراج ہوگیا ہے اور آلودگی شمال مشرق کی جانب عمانی ساحل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکام کے مطابق تیل کی تہہ اس وقت سمندر کی سطح پر موجود ہے اور سمندری و فضائی حالات کے باعث مسلسل پھیل رہی ہے۔

عمانی حکام نے پیر کو مسلسل نگرانی اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد بتایا کہ تیل کی آلودگی الحلاّنیات جزائر کے شمال مشرق میں مرکزی ساحل کی جانب بڑھ رہی ہے اور ساحل سے اس کا کم ترین فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر رہ گیا ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ، مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انوائرمنٹ اتھارٹی نے 6 اگست کو بتایا تھا کہ ’’کیرولین بیزینگی‘‘ نامی آئل ٹینکر سمندر کی تہہ سے ٹکرانے کے بعد علاقے میں پھنس گیا تھا۔

میرین ٹریفک کے مطابق کیمرون کے پرچم تلے سفر کرنے والا یہ خام تیل کا ٹینکر تقریباً 274.48 میٹر طویل اور 48 میٹر چوڑا ہے۔

حکام کے مطابق مسلسل نگرانی میں تیل کی آلودگی کا مشاہدہ شدہ پھیلاؤ تقریباً 449 کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ سائنسی ماڈلز کے مطابق موجودہ سمندری اور فضائی حالات برقرار رہے تو تیل اگلے 48 گھنٹوں میں مزید تقریباً 121 کلومیٹر شمال مشرق کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ 121 کلومیٹر کا اندازہ سائنسی پیش گوئی ہے، حقیقی مشاہدہ نہیں۔ ہوا، سمندری لہروں اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے تیل کی سمت اور رفتار بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔

ماحولیاتی تجزیے کے مطابق آلودگی کے نسبتاً زیادہ موٹے حصے راس مدرکہ کے داخلی راستوں کی جانب بڑھ سکتے ہیں جس کے باعث ساحلی اور سمندری علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

تیل کی تہہ تقریباً 390 مربع کلومیٹر کے سمندری علاقے میں دیکھی گئی ہے تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رقبہ خارج ہونے والے تیل کی مقدار نہیں بتاتا۔ تیل کی اصل مقدار کا تعین اس کی تہہ کی موٹائی، تیل کی نوعیت، سمندر میں پھیلاؤ، لہروں، ہواؤں اور سمندری دھاروں سمیت متعدد عوامل کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔

عوام کے لیے خطرہ نہیں

عمانی حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تیل کا اخراج فی الحال عوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال کردیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ساحلی علاقوں میں موجود پانی صاف کرنے کے پلانٹس، فش فارمنگ منصوبوں، اقتصادی اور سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فوری خطرہ لاحق نہیں جبکہ سمندری پانی کی مسلسل جانچ کی جا رہی ہے۔

خراب موسمی حالات نے ایک طرف تیل سے نمٹنے کے تکنیکی اقدامات کو مشکل بنا دیا ہے تاہم سمندری ہوائیں تیل کو عمانی ساحل سے دور لے جانے میں بھی مدد دے رہی ہیں جس سے براہ راست ماحولیاتی اثرات کم ہونے کی توقع ہے۔

سمندری حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات

عمان کے متعدد ادارے تیل کے اخراج کو محدود کرنے، جہاز کو محفوظ بنانے اور ماحولیاتی صورتحال کی مسلسل نگرانی میں مصروف ہیں۔

خصوصی قومی ٹیمیں سیٹلائٹ تصاویر، ماحولیاتی ماڈلز، فضائی نگرانی اور فیلڈ سروے کے ذریعے آلودگی کے پھیلاؤ کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر حساس علاقوں کی نشاندہی کرکے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکام کی اولین ترجیح سمندری حیاتیاتی تنوع، قدرتی مساکن اور حساس ماحولیاتی علاقوں کا تحفظ ہے۔ نگرانی میں مرجانی چٹانیں، کچھوؤں کے انڈے دینے والے ساحل، سمندری مساکن اور اہم ساحلی علاقے شامل ہیں۔

آئل ٹینکر سے تیل نکالنے کی تیاری

تیل کے اخراج کو محدود کرنے کے ساتھ ٹینکر سے لیکیج کے ذرائع کی نشاندہی اور جہاز کے ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے بھی کام جاری ہے۔

وزارت اور دیگر قومی اداروں کی تکنیکی ٹیمیں ایک خصوصی کمپنی کے ماہرین کے ساتھ مل کر جہاز کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔

اگلے مرحلے میں ٹینکر کے اندر موجود تیل کو محفوظ طریقے سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے بعد جہاز کو سمندر سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس دوران فضائی نگرانی، سمندری غوطہ خوری اور مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ جاری رہے گی۔

انوائرمنٹ اتھارٹی نے عوام اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ صورتحال سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور تیل کے اخراج کی مقدار، نقشے یا غیر مصدقہ اعداد و شمار شیئر نہ کریں۔

الحلاّنیات جزائر

الحلاّنیات جزائر عمان کے جنوب مشرقی ساحل سے تقریباً 40 کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع پانچ دور افتادہ جزائر پر مشتمل ہیں۔ ان میں الحلاّنیہ سب سے بڑا اور واحد آباد جزیرہ ہے۔

یہ جزائر مرجانی چٹانوں، مچھلیوں، سمندری کچھوؤں، ڈولفنز، وہیلز اور مختلف اقسام کے سمندری پرندوں کے لیے اہم قدرتی مسکن ہیں۔

ان جزائر کو قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے مستقبل میں یونیسکو کے تحت نیچر ریزرو قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ الحلاّنیات میں کچھوؤں کے انڈے دینے والے ساحل اور مختلف نایاب پرندوں کی افزائش گاہیں بھی موجود ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button