
خلیج اردو
متوقع ہے کہ عیدالفطر رواں برس مارچ کے وسط میں ہوگی، جب یو اے ای اور ہمسایہ ممالک میں موسم خوشگوار رہتا ہے۔ اسی باعث بہت سے رہائشی طویل بین الاقوامی سفر کے بجائے خلیجی ممالک کے مختصر دوروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق شہری قریبی مقامات جیسے Oman اور Musandam کے روڈ ٹرپس کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جبکہ کئی خاندان رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ ادا کرنے کے بعد سعودی عرب میں عید کی چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عجمان کے رہائشی محمد ابو نائل اس بار عید اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مسقط میں گزاریں گے۔ ان کا کہنا تھا، "مارچ کا موسم بہترین ہے، بچے بھی باہر کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔” ان کا خاندان Muscat میں قیام کے دوران Muttrah Corniche، Qurum Beach، Wadi Shab اور Nizwa Fort کی سیر کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسی طرح عبدالسلام خنیری اپنے دوستوں کے ساتھ مسندم کا گروپ روڈ ٹرپ پلان کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، "ہم تین خاندان اکٹھے سفر کر رہے ہیں، ساحل کے قریب ولا بک کیا ہے، کیاکنگ اور باربی کیو کا بھی پروگرام ہے۔”
بعض افراد مذہبی اور سیاحتی سفر کو یکجا کر رہے ہیں۔ ابوظہبی کے محمد عمران رمضان کے آخری عشرے میں Medina جائیں گے اور عید وہیں گزارنے کے بعد Abha اور Jeddah کا رخ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، "جب ہم پہلے ہی وہاں موجود ہوں گے تو خوشگوار موسم میں دیگر شہروں کی سیر بہترین موقع ہے۔”
سیاحتی کمپنی Wisefox Tourism کے سینیئر منیجر سبیر تھیکے پوراتھ والا پل نے بتایا کہ رمضان کے آخری دس دنوں میں عمرہ اور بعد ازاں سعودی شہروں جیسے Tabuk اور AlUla کی سیر کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق لوگ شاپنگ مالز کے بجائے پُرسکون قدرتی مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں خاندان اکٹھے وقت گزار سکیں۔
ماہرین کے مطابق مارچ کے معتدل موسم اور کم دورانیے کے سفر کی سہولت کے باعث اس عید پر خلیجی ممالک مختصر تعطیلات کے لیے پہلی ترجیح بنتے جا رہے ہیں، جو بجٹ اور وقت دونوں کے بہتر استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔







