
خلیج اردو
یو اے ای میں حالیہ کشیدگی کے بعد والدین بچوں کے خوف کو کم کرنے کیلئے ماہرین کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے سادہ گفتگو اور سوشل میڈیا سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں حالیہ کشیدگی اور میزائل حملوں کے دوران کئی والدین کو اپنے بچوں کے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جب بچوں نے خوف کے عالم میں اپنی جان کے تحفظ سے متعلق سوالات کیے۔
رہائشی مریم محمد نے بتایا کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی نے دھماکوں کی آوازیں سننے کے بعد روتے ہوئے پوچھا، "کیا ہم مر جائیں گے؟” انہوں نے کہا کہ پورا دن جنگ سے متعلق خبروں پر بات کرنے کے باوجود انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کس قدر خوفزدہ ہو چکی ہے۔
ملک بھر میں متعدد والدین کو بچوں کے ساتھ موت اور جنگ جیسے حساس موضوعات پر گفتگو کرنا پڑی جبکہ کئی بچوں نے میزائلوں کو فضا میں تباہ ہوتے اور ملبہ گرتے دیکھا، جس نے ان کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
Abu Dhabi Early Childhood Authority نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کو یقین دلائیں کہ وہ محفوظ ہیں کیونکہ بچے مکمل طور پر صورتحال نہ سمجھنے کے باوجود ذہنی دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب Aster Clinic کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سلمان کریم نے مشورہ دیا ہے کہ بچوں سے ان کی عمر کے مطابق سادہ اور ایماندارانہ انداز میں بات کی جائے۔ ان کے مطابق، "بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ حفاظتی ادارے ان کے تحفظ کیلئے کام کر رہے ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔”
ماہرین نے مزید کہا کہ بچوں کو غیر مصدقہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا مواد سے دور رکھا جائے کیونکہ یہ خوف میں اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ انہیں باور کرایا جائے کہ ذمہ دار ادارے ان کی حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق والدین کو بچوں کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں، موجودہ اقدامات احتیاطی ہیں اور شہر کے تحفظ کیلئے متعدد افراد دن رات کام کر رہے ہیں۔







