متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کاروبار جاری، ملازمین کی حفاظت اولین ترجیح قرار، حکام نے احتیاط کے ساتھ معمولات جاری رکھنے کی ہدایت کر دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کشیدہ صورتحال کے باوجود کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، قومی ہنگامی ادارے نے احتیاط کے ساتھ معمولات برقرار رکھنے کی ہدایت دی جبکہ کئی کمپنیوں نے لچکدار انتظامات اختیار کر لیے۔

متحدہ عرب امارات میں کشیدہ علاقائی صورتحال کے باوجود پیر کے روز بیشتر کاروباری اداروں نے سرگرمیاں جاری رکھیں اور ملازمین کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔ حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ روزمرہ معمولات جاری رکھے جا سکتے ہیں۔

قومی ہنگامی، بحران اور آفات انتظامی اتھارٹی نے بیان میں کہا کہ نگرانی کا عمل مسلسل جاری ہے اور تمام اقدامات کمیونٹی کے تحفظ اور اعلیٰ سطح کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔

آن لائن تحائف فراہم کرنے والی کمپنی فرنز این پیٹلز نے اعلان کیا کہ تازہ پھولوں اور کیک کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے تاہم ڈیلیوری عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ راجیش کمار نے کہا، “ہمارے رائیڈرز اور زمینی ٹیموں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، ہر فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔”

ٹیکنالوجی کمپنی یانگو گروپ، جو سفری سہولت اور آن لائن کریانہ خدمات فراہم کرتی ہے، نے بھی معمول کے مطابق آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ مشرق وسطیٰ کے سربراہ اسلام عبد الکریم نے کہا کہ حکام نے سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم قرار دیا ہے اور کمپنی سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کر رہی ہے۔

ادھر تعلقات عامہ کی کمپنی ٹش ٹاش کمیونیکیشنز کی بانی نتاشا ہیتھرال نے کہا کہ ان کی ٹیم گزشتہ چند روز سے معمول سے زیادہ مصروف ہے۔ انہوں نے وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی سفارشات کے تحت پوری ٹیم کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ “میری اولین ترجیح ہمارے لوگ ہیں، گھر سے کام کرنا خاندانوں کے لیے سکون اور استحکام کا باعث بنتا ہے۔”

اسی دوران متحدہ عرب امارات کی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی نے پیر اور منگل کو ملک کی مرکزی اسٹاک ایکسچینجز بند رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ فضائی حدود بھی عارضی طور پر منگل تک بند رہیں گی۔

کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن ہے اور ملازمین کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے نظام زندگی کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button