
خلیج اردو
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کے ایس یو 30 ایم کے آئی طیاروں کے حادثات کی ممکنہ وجہ بھارت میں تیار کیے جانے والے انجن قرار دیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں یہ طیارے براہ راست روسی کمپنی سے درآمد کیے جاتے تھے، تاہم بعد میں بھارت نے ان کی تیاری کا لائسنس حاصل کر لیا اور مقامی سطح پر انجن بنانے کا عمل بھی شروع کر دیا۔
ایس یو 30 ایم کے آئی طیارہ بھارتی فضائیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس طیارے سے متعلق حادثات کو دفاعی ماہرین نے انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے اور اس کے تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔






