
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بچوں کو لازمی ویکسین نہ لگوانے والے والدین یا سرپرستوں کے لیے جرمانے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق بچوں کو قومی حفاظتی ٹیکہ پروگرام کے تحت ویکسین نہ دلوانے پر پانچ ہزار سے بیس ہزار درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
یہ مجوزہ ترامیم متحدہ عرب امارات کی وفاقی قومی کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئیں، جس کا مقصد متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے قانونی نظام کو مضبوط بنانا اور عوامی صحت کا بہتر تحفظ یقینی بنانا ہے۔
حکام کے مطابق ملک کے قومی حفاظتی ٹیکہ پروگرام کے تحت بچوں کو پیدائش سے لے کر گیارہویں جماعت تک مختلف متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے متعدد لازمی ویکسین دی جاتی ہیں۔ یہ ویکسین ملک کے حفاظتی صحت کے نظام کے تحت مختلف مراحل میں فراہم کی جاتی ہیں۔
نئے قانون کے تحت نوزائیدہ بچوں اور دیگر مخصوص گروپوں کے لیے قومی پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی ویکسین بدستور مفت دستیاب رہیں گی تاکہ تمام شہریوں کو اس سہولت سے فائدہ پہنچ سکے۔
قانون کے مطابق اگر کسی وبائی صورتحال یا بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ ہو تو حکام مخصوص حالات میں ویکسین کو لازمی قرار دینے کا اختیار بھی رکھتے ہوں گے، اور اس فیصلے کا باضابطہ اعلان میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کو طبی وجوہات کی بنا پر ویکسین نہیں لگائی جا سکتی انہیں اس قانون سے استثنا حاصل ہوگا۔
اجلاس کے دوران احمد بن علی الصایغ نے کہا کہ عالمی صحت کے بدلتے حالات اور کووڈ 19 سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد قانون میں یہ ترامیم ضروری تھیں تاکہ ملک مستقبل کے صحت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹ سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ قانون متحدہ عرب امارات کے قومی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔







