
خلیج اردو
بحرین میں ایرانی حملے میں جاں بحق ہونے والی 29 سالہ خاتون سارہ عبدالحمید دشتی کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی، جہاں سوگواران نے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور مرحومہ کے والد کو تسلی دی۔
بحرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کے قریب علاقے السیف میں ایک رہائشی عمارت پر ایرانی حملے کے نتیجے میں سارہ دشتی جاں بحق جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خلیجی ممالک بھی کشیدگی کی زد میں آ چکے ہیں۔
جنازے کے مناظر میں دیکھا گیا کہ سوگوار سارہ دشتی کا تابوت اٹھائے قبرستان کی جانب جا رہے تھے جبکہ بارش بھی جاری تھی۔ بعد ازاں مرحومہ کو الہورہ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
جنازے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے والد آبدیدہ ہو گئے اور کہا، “وہ یقیناً شہید ہے، وطن کے لیے قربان ہو گئی۔ میں کیا کہوں، میں نے اپنی بیٹی کھو دی ہے۔”
اس موقع پر بحرین کے ایک سرکاری عہدیدار نے بھی شرکت کی اور خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے بتایا کہ شیخ خالد بن حمود آل خلیفہ کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام پہنچایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات بحرینی عوام کو مزید متحد اور مضبوط بناتے ہیں، تاہم جنگ ہمیشہ سب کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہے اور اس میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث شہری آبادی بھی جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔







