
خلیج اردو
منگل کو معلوم ہوا کہ کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ کے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو سندھ ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں ضمانت دی، جس کے بعد انہیں سکھر جیل سے رہا کر دیا گیا۔
پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے علی وزیر کی رہائی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بار بار عدالت کے احکامات کے باوجود ان کی طویل حراست نے قانونی عمل اور ذاتی آزادی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے۔
قبل ازیں ہفتہ کو حیدرآباد میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچ نے علی وزیر کو وہ ضمانت دی تھی جو گزشتہ سال نوابشاہ ایئرپورٹ تھانہ میں درج مقدمے کے تحت تھی۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کے دفعات 123-A (ریاست کے قیام کی مذمت اور خودمختاری کے خاتمے کی حمایت) اور 124-A (بغاوت) کے ساتھ اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 6 اور 7 کے تحت درج تھا۔
یہ رہائی علی وزیر کے قانونی حقوق کی بحالی اور عدالت کے احکامات کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔






