
خلیج اردو
دبئی کے حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ‘دبئی سے بڑے پیمانے پر انخلاء ہو رہا ہے’، ‘دبئی اب محفوظ نہیں رہا’، ‘ایئرپورٹس بند کر دیے گئے ہیں’ اور ‘اسٹورز کی الماریاں خالی ہو چکی ہیں’۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام باتیں سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
دبئی گورنمنٹ میڈیا آفس نے بدھ کے روز ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان گمراہ کن بیانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح زمینی حقائق کے برعکس سرخیاں بنا کر پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ دبئی میں حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں۔
Sidestep the rumours, focus on the facts.
Dubai is operating as normal. Don’t be misled by fake news. Stay informed and verify before you share. pic.twitter.com/ulMjj53eAo
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) March 25, 2026
میڈیا آفس نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ بیان میں کہا: "افواہوں کو نظر انداز کریں اور حقائق پر توجہ دیں۔ دبئی میں تمام امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ جھوٹی خبروں سے گمراہ نہ ہوں، باخبر رہیں اور شیئر کرنے سے پہلے تصدیق ضرور کریں۔”
اس ویڈیو میں وائرل ہونے والی مختلف سرخیوں کو یکجا کیا گیا ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بینک سرمایہ کاروں کے فنڈز منجمد کر رہے ہیں، رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تباہ ہو رہی ہے، اور امیر ترین رہائشی و عالمی سرمایہ کار (ہیج فنڈز) امارت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں ان تمام خبروں پر ‘جعلی’ (Fake) کا نشان لگا کر ان کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔
حکام نے ایک بار پھر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں، خاص طور پر علاقائی تناؤ کے دوران ایسی افواہیں عوام کو گمراہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
حکام نے مزید واضح کیا کہ غلط یا پرانی معلومات شیئر کرنے کے قانونی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں، اس لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔







