
خلیج اردو
دبئی میں فالکن سٹی آف ونڈرز منصوبے کے سرمایہ کاروں نے طویل قانونی جنگ کے بعد بڑی کامیابی حاصل کر لی، جہاں عدالتی کمیٹی نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے رہائشی پلاٹس پر عائد تمام پابندیاں اور نیلامی کے اقدامات کالعدم قرار دے دیے۔
16 فروری کے فیصلے میں خصوصی عدالت نے سرمایہ کاروں کی ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن افراد نے قانونی طور پر زمین خریدی اور مکمل ادائیگی کی، ان کے حقوق محفوظ ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ قرض کی وصولی کے لیے ایسے اثاثوں پر کارروائی نہیں کی جا سکتی جو کسی تیسرے فریق کی ملکیت ہوں۔
یہ تنازع فالکن پراپرٹیز اور دبئی لینڈ ایل ایل سی کے درمیان مالی معاملات پر شروع ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد پلاٹس کو نیلامی کے لیے پیش کیا گیا، حالانکہ وہ پہلے ہی خریداروں کے نام منتقل ہو چکے تھے۔
متاثرہ سرمایہ کاروں میں شامل افراد نے بتایا کہ انہوں نے قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے زمین خریدی، ٹائٹل ڈیڈ حاصل کیا اور تعمیرات بھی شروع کر دی تھیں، مگر اچانک نیلامی کے اعلانات نے انہیں شدید ذہنی اور مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ماہرین نے تمام ریکارڈ، ادائیگیوں اور معاہدوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ سرمایہ کار نیک نیتی سے خریدار ہیں اور ان کے حقوق مکمل طور پر جائز ہیں۔ کمیٹی نے تمام نیلامی اور ضبطی کے اقدامات ختم کرنے اور قانونی اخراجات دبئی لینڈ ایل ایل سی پر عائد کرنے کا حکم بھی دیا۔
یہ فیصلہ دبئی میں سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں بھی قانونی نظام شفافیت اور انصاف کو یقینی بناتا ہے۔







