متحدہ عرب امارات میں ہر سال تقریبا 16 ملین سیاح آتے ہیں۔ اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں اور سیاحتی یا وزٹ ویزا کی مدت میں اضافہ کروانا چاہتے ہیں تو اس مضمون میں آپ کے لیے تمام معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
سب سے پہلے جان لیجیے کہ آپ کا ویزا کس کیٹگری میں آتا ہے۔ کیونکہ مختلف ویزوں کے لیے قوانین مختلف ہیں۔
1۔ طویل مدتی وزٹ ویزا
پہلی کیٹگری طویل مدتی وزٹ ویزا ہے جس کی کل معیاد 90 دن ہے۔
کیا ایسے ویزے کی مدت میں اضافہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں ایسے ویزے کی مدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس ویزے کی مدت میں اضافے کے لیے درج ذیل ڈاکومنٹس کی ضرورت ہوگی:
1۔ اصل سپانسرڈ پاسپورٹ جس کی مدت ابھی 6 ماہ رہتی ہو کی ایک کاپی
2۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کی تصویر
3۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کا ملازمت کا اصلی معاہدہ
4۔ کرایہ نامہ کی تصدیق شدہ کاپی
5۔ ویزا سپانسر کرنے والے شخص کے پاسپورٹ کی کاپی۔ خواہ وہ شخص ماں ہے یا باپ
6۔ سپانسر کرنے والے کے ساتھ رشتے کا ثبوت
2۔ طویل مدتی سیاحتی ویزا
دوسری کیٹگری ہے طویل مدتی سیاحتی ویزا کی۔ جس کی کل معیاد 90 دن ہے۔ اس ویزے کی مدت میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کی مدت میں اضافے کے لیے درج ذیل کاغذات کی ضرورت ہوگی:
1۔ اصل سپانسرڈ پاسپورٹ جس کی مدت ابھی 6 ماہ رہتی ہو کی ایک کاپی
2۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کی تصویر
3۔ اگر ویزے کی درخواست دینے والا شخص 17 سال سے کم عمر ہے تو اس کے ساتھ کسی کا ہونا ضروری ہے
3۔ قلیل مدتی وزٹ ویزا
ویزوں کی قسموں میں سے تیسری قسم قلیل مدتی یا کم دورانیے کا وزٹ ویزا ہے۔ جس کا دورانیہ 30 دن ہے۔
جی ہاں اس ویزے کی مدت میں بھی اضافہ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
اس ویزے کی مدت میں اضافے درج ذیل ڈاکومنٹس کی ضرورت ہوگی:
1۔ اصل سپانسرڈ پاسپورٹ جس کی مدت ابھی 6 ماہ رہتی ہو کی ایک کاپی
2۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کی تصویر
3۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کا ملازمت کا اصلی معاہدہ
4۔ کرایہ نامہ کی تصدیق شدہ کاپی
5۔ ویزا سپانسر کرنے والے شخص کے پاسپورٹ کی کاپی۔ خواہ وہ شخص ماں ہے یا باپ
6۔ سپانسر کرنے والے کے ساتھ رشتے کا ثبوت
4۔ قلیل مدتی سیاحتی ویزا
چوتھی قسم ہے قلیل مدتی سیاحتی ویزا یا ایسا سیاحتی ویزا جو 30 دن کے دورانیے کے لیے جاری کیا گیا ہو۔
اس ویزے کی مدت یا دورانیہ 30 دن ہے اور اس کی مدت میں اضافے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
اس درخواست کے لیے درج ذیل کاغذات کی ضرورت ہوگی:
1۔ اصل سپانسرڈ پاسپورٹ جس کی مدت ابھی 6 ماہ رہتی ہو کی ایک کاپی
2۔ ویزا کے لیے اپلائی کرنے والے شخص کی تصویر
3۔ اگر ویزے کی درخواست دینے والا شخص 17 سال سے کم عمر ہے تو اس کے ساتھ کسی کا ہونا ضروری ہے
کیا آپ امارات پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں؟
آپ متحدہ عرب امارا پہنچ کر ویزا حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں اس بات کا انحصار آپ کی قومیت پر ہے یعنی آپ کس ملک کے شہری ہیں۔
انڈین شہری جو عام پاسپورٹ رکھتے ہیں کو متحدہ عرب امارات پہنچنے پر 14 دن کا ویزا جاری کیا جاتا ہے یا ایسے لوگ جنہیں:
امریکہ کی طرف سے وزٹ ویزا جاری کیا گیا ہو
یا
امریکہ کی طرف سے گرین کارڈ جاری کیا گیا ہو
یا
ایسے افراد جو برطانیہ کا رہائشی ویزا رکھتے ہوں
یا
ایسے افراد کو آمد پر ویزا دیا جاتا ہے جو یورپ کا رہائشی ویزا رکتھے ہوں۔
تاہم ویزا یا گرین کارڈ کی مدت متحدہ عرب امارات پہنچنے سے لے کر 6 ماہ تک ہونی چاہیے۔
ویزوں کی مدت میں اضافے کے لیے کتنی فیس ادا کرنی پڑتی ہے؟
آمر کال سنٹر کے مطابق 30 دن اور 90 دن کے وزٹ ویزا کی مدت میں 30 دن کے اضافے کے لیے 810 درہم کی فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ اور اسکے بعد ہر 20 دن کے اضافے پر بھی 810 درہم ادا کرنے ہوں گے۔
تاہم 30 دن اور 90 کے سیاحتی ویزے کی مدت میں اضافے کے لیے آپ کو اس ائیر لائین یا سیاحتی ایجنسی سے رابطہ کرنا ہوگا جس نے یہ ویزا جاری کیا ہے۔ آپ کو اضافی فیس ادا کرنی پڑے گی اگر آپ امارات چھوڑے بغیر ہی ویزے کی مدت میں اضافہ چاہتے ہیں۔
امارات آمد پر حاصل کیے جانے والے ویزے کی مدت میں اضافہ صرف ان افراد کے لیے کیا جائے گا جنہوں نے 14 یا 30 دن کا ویزا حاصل کیا ہوگا۔
دبئی کے راستے امارات میں داخل ہونے اور آمد پر حاصل کیے گے ویزے کی مدت بڑھانے کے لیے آپ کو درج ذیل فیسیں ادا کرنا ہوں گی:
30 دن کے ویزا 810 درہم کی فیس کے ساتھ 20 دن کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔
جبکہ امارات آمد پر حاصل کیا گیا 14 دن کا ویزا 810 درہم میں 14 دن کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے آپ آمر کا سینٹر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آمر سینٹر کا نمبر درج ذٰیل ہے:
8005111
یاد رہے کہ یہ مضمون کورونا وائرس کے باعث ویزوں کے اجرا میں کی جانے والی تبدیلیوں سے پہلے لکھا گیا ہے۔ یعنی یہ مضمون امارات کے عام حالات سے متعلق ہے۔ کورونا کے باعث ویزوں کے اجراء میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ یہ جاننے کے لیے مندرجہ ذیل مضامین پڑھیں:
کورونا کے دنوں میں ویزا کینسل ہونے کی صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیئے؟
Source : Gulf News







