
خلیج اردو
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی شروع ہو گئے، مختلف شہروں میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی شہر کاشان میں ریلوے پل کو نشانہ بنایا گیا جہاں 2 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تبریز اور زنجان ہائی وے پر بھی حملے کیے گئے۔ تہران کی فضاؤں میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری رہیں اور متعدد دھماکوں سے شہر گونج اٹھا۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں مزید 17 افراد جاں بحق ہوئے، شہریار میں ایک رہائشی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں 9 افراد جان سے گئے، جبکہ تہران کے مشرقی علاقے پردیس میں عمارتوں کے ملبے سے 6 لاشیں نکالی گئیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک بڑے پیٹروکیمیکل پلانٹ کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق یہ پلانٹ ایران کی تقریباً 50 فیصد پیٹروکیمیکل پیداوار کا ذمہ دار تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حملے کے بعد ایران کی پیٹروکیمیکل برآمدات کا 85 فیصد حصہ معطل ہو گیا ہے، جس سے ملکی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو اس حساس مقام کو نشانہ بنانے سے روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس کے باوجود کارروائی عمل میں لائی گئی۔
یہ صورتحال خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتی ہے اور ایک بڑی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔







