
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے اگلے دور سے متعلق اپنے سابقہ بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نئی تاریخ یا 3 سے 5 دن کی مہلت کی خبر درست نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی یا مذاکرات کے لیے کسی وقت کی پابندی موجود نہیں اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کا کوئی فریم ورک طے کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ کا مقصد اپنے عوام کے لیے بہترین معاہدہ حاصل کرنا ہے اور اس حوالے سے کوئی جلد بازی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے جہاز امریکی نہیں تھے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ناکہ بندی ایران کے لیے بمباری سے زیادہ دباؤ کا باعث ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو “ذہین شخص” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل کے مذاکرات میں وہ بھی شریک ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مؤقف میں یہ تبدیلی خطے کی صورتحال اور جنگ کے بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کے مستقبل پر اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔







