متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے انخلا پالیسی پر مبنی فیصلہ، پیداوار میں لچک اور قومی مفادات کو ترجیح دینے کی حکمت عملی قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام اور ماہرین نے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد سے علیحدگی کے فیصلے کو ایک خودمختار اور پالیسی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے، جس کا مقصد تیل کی پیداوار میں لچک پیدا کرنا اور عالمی منڈی کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

وزیرِ توانائی و بنیادی ڈھانچہ سہیل محمد المزروعی نے کہا کہ یہ فیصلہ “طویل مدتی مارکیٹ حقائق سے ہم آہنگ پالیسی میں تدریجی تبدیلی” کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوپیک اور رکن ممالک کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعاون پر شکر گزار ہیں، تاہم یو اے ای توانائی تحفظ، ذمہ دارانہ فراہمی اور کم کاربن پیداوار کے عزم پر قائم رہے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ موجودہ اور مستقبل کی پیداواری پالیسیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا، اور اس حوالے سے کسی دوسرے ملک سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ “سیاسی نہیں بلکہ پالیسی فیصلہ” ہے، جس میں توانائی حکمت عملی اور مستقبل کی پیداوار کو مدنظر رکھا گیا۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ پابندیوں اور سپلائی میں رکاوٹوں نے بھی وقت کے تعین میں کردار ادا کیا، جبکہ اجتماعی پیداواری نظام بعض اوقات ممالک کی فوری ردعمل کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے، اسی لیے زیادہ لچک کی ضرورت محسوس کی گئی۔

وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان الجابر نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ طویل مدتی توانائی حکمت عملی، حقیقی پیداواری صلاحیت اور قومی مفادات کے مطابق کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قومی آئل کمپنی کا فوکس عالمی صارفین کو تیل، گیس، کیمیکلز اور کم کاربن توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی پر برقرار رہے گا۔

وفاقی قومی کونسل کی دفاع، داخلہ و خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین علی راشد النعیمی نے اس اقدام کو “اعلیٰ قومی مفادات اور مستقبل کے معاشی اہداف سے ہم آہنگ خودمختار فیصلہ” قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام اجتماعی حکمت عملی سے ہٹ کر خودمختار تیل پالیسی کی جانب پیش رفت کی علامت ہے، جو یو اے ای کو عالمی طلب کے مطابق اپنی پیداوار بہتر انداز میں منظم کرنے کا موقع دے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی جدید توانائی صلاحیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ اوپیک سے باہر رہتے ہوئے بھی عالمی منڈی میں اہم کردار ادا کرے، جبکہ یہ فیصلہ قلیل، وسط اور طویل مدت میں قومی مفادات کو تقویت دے گا۔

حکام نے واضح کیا کہ اوپیک سے علیحدگی کے باوجود یو اے ای عالمی منڈی کے استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور تیل، گیس اور کم کاربن توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button