متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کیلئے اہم قوانین، نجی چیٹس بھی قانون کے دائرے میں، بینکنگ پابندی سمیت پانچ بڑے اپڈیٹس جاری

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد کے لیے اہم قانونی اور تکنیکی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جن میں نجی چیٹس پر قانون کا اطلاق اور بینکنگ پابندیاں شامل ہیں۔

سب سے اہم پیش رفت میں مرکزی بینک متحدہ عرب امارات نے یکم مئی سے تمام مالیاتی اداروں پر واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس کے ذریعے کسٹمر سروس فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس میں صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنا، لین دین کی تصدیق، او ٹی پی بھیجنا اور مالی دستاویزات کا تبادلہ شامل ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ فراڈ، جعلسازی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موبائل بینکنگ ایپس، کال سینٹرز یا برانچز جیسے منظور شدہ ذرائع استعمال کریں۔

قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نجی واٹس ایپ چیٹس اور گروپس بھی یو اے ای سائبر کرائم قانون کے تحت آتے ہیں، اور غیر تصدیق شدہ معلومات آگے بھیجنا، بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا یا کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا جرم ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایسے جرائم پر ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم جرمانہ یا قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ مارچ 2026 میں گمراہ کن ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر 35 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

مزید برآں، واٹس ایپ گروپ ایڈمنز بھی مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوتے۔ اگر وہ غیر قانونی مواد کو نظر انداز کریں یا ہٹانے میں ناکام رہیں تو انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ غیر قانونی مواد فوری حذف کیا جائے اور متعلقہ صارف کو گروپ سے نکال دیا جائے۔

عدالتی سطح پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دبئی کورٹ آف کاسیشن نے قرار دیا ہے کہ واٹس ایپ پیغامات کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے فرانزک تصدیق ضروری ہوگی۔

دوسری جانب واٹس ایپ نے ویب ورژن میں وائس اور ویڈیو کالنگ فیچر متعارف کرانے کا آغاز کیا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات میں اس کی دستیابی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہوگی کیونکہ ملک میں اس فیچر پر پہلے سے پابندیاں موجود ہیں۔

یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن اب مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں آ چکی ہے اور صارفین کو محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button