متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے نئے عربی زبان قانون سے 2027 تک اسکولوں میں تدریسی نظام میں بڑی تبدیلیاں متوقع

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 2027 تک مجوزہ عربی زبان قانون کے نفاذ کی تیاریوں کے تحت مختلف اسکول عربی تدریس، نصاب اور تدریسی حکمت عملیوں میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر کام کر رہے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق نئے قانون کے بعد عربی کو صرف ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ تعلیمی سرگرمیوں اور ثقافتی شناخت کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ مقامی اور غیر عرب طلبہ دونوں زبان سے بہتر انداز میں جڑ سکیں۔

وزارتِ ثقافت کی جانب سے فیڈرل نیشنل کونسل اجلاس میں پیش کیے گئے اس منصوبے کو قومی ترجیح قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد تعلیم اور معاشرت میں عربی زبان کا کردار مضبوط بنانا ہے۔

جیمز ایجوکیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر ڈاکٹر غدیر ابو شامات نے کہا کہ ادارے پہلے ہی جدید تدریسی ماڈلز پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نومبر 2024 میں قائم کیا گیا عربی زبان اور ثقافت کا مرکز جدید ٹیکنالوجی، ورچوئل ریئلٹی، مصنوعی ذہانت اور انٹرایکٹو لرننگ کے ذریعے عربی کو طلبہ کے لیے زیادہ دلچسپ اور قابلِ رسائی بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عربی اور انگریزی کو ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھنے کے بجائے ایسے کثیر لسانی طلبہ تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی جو عالمی سطح پر بھی کامیاب ہوں اور اماراتی ثقافت سے بھی جڑے رہیں۔

آکسفورڈ اسکول کی ہیڈ آف ایم او ای ڈاکٹر مروہ علی مہایہ کے مطابق یو اے ای کے اسکول عربی تعلیم میں پہلے ہی کافی پیش رفت کر چکے ہیں، تاہم غیر عرب طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مؤثر تدریسی حکمت عملیوں، تشخیصی نظام اور زبان سیکھنے کے جدید طریقوں کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عربی کو صرف امتحانی مضمون کے بجائے روزمرہ زندگی، ثقافت اور شناخت سے جڑی زبان کے طور پر متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ طلبہ اس سے حقیقی تعلق محسوس کر سکیں۔

دوسری جانب ایمبیسیڈر اسکول دبئی کی پرنسپل ڈاکٹر شیلا مینون نے کہا کہ اصل چیلنج عربی پڑھانے کے اوقات بڑھانا نہیں بلکہ غیر عرب طلبہ کے لیے زبان کو دلچسپ اور آسان بنانا ہے۔

ان کے مطابق نجی اسکولوں کو عربی، انگریزی اور دیگر مضامین کے درمیان متوازن نصاب ترتیب دینا ہوگا تاکہ طلبہ عالمی معیار کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اماراتی لسانی اور ثقافتی شناخت سے بھی جڑے رہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button