عالمی خبریں

خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ امریکی حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا

خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر منگل 19 مئی کو ہونے والا مجوزہ امریکی فوجی حملہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جاری مذاکرات کو موقع دینے کی درخواست کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان رہنماؤں کے احترام میں انہوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو حملہ نہ کرنے کی ہدایت دی۔

امریکی صدر کے مطابق خلیجی رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور امکان ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی شرط شامل ہوگی۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر “قابلِ قبول معاہدہ” نہ ہوا تو امریکا کسی بھی وقت ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان اپریل سے جاری مذاکرات اب تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان افزودہ یورینیم، بیلسٹک میزائل پروگرام، آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں فوجی کارروائیوں جیسے معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ امریکا جنگ بندی اور جوہری سرگرمیوں پر سخت شرائط عائد کرنا چاہتا ہے۔

4 مئی کو ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون تباہ کیے تھے جبکہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹری زون میں آگ لگنے سے تین بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے۔

تازہ پیش رفت میں پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایران نے امریکا کو جنگ کے خاتمے کے لیے نئی تجاویز بھجوائی ہیں جبکہ عالمی برادری اب واشنگٹن کے جواب کی منتظر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button