
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وفاقی کابینہ نے 80 ہزار سرکاری ملازمین کو ایجنٹک مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اور جدید ڈیجیٹل نظام کی تربیت دینے کے قومی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ اجلاس کی صدارت متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِاعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کی۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ “یو اے ای گورنمنٹ 4.0” کی جانب تبدیلی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دنیا کی پہلی ایسی حکومت بننا ہے جو اپنی 50 فیصد خدمات اور آپریشنز میں ایجنٹک مصنوعی ذہانت استعمال کرے۔
منصوبے کے تحت وزرا، اعلیٰ حکام اور نئے سرکاری ملازمین سمیت تمام وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا جو ہر ملازم کی صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق ذاتی تعلیمی راستہ فراہم کرے گا۔
حکام کے مطابق تربیتی پروگرام قومی جامعات اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جس میں قیادت، تکنیکی ماہرین، اسپیشلسٹ عملہ، عمومی افرادی قوت اور ٹرینرز کی تربیت سمیت پانچ بڑے شعبے شامل ہوں گے۔
کابینہ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرکاری خدمات کے پہلے مرحلے کی بھی منظوری دی، جس میں شہریوں، رہائشیوں، کاروباری شعبے اور سرمایہ کاروں کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔
دوسری جانب صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ہیلتھ سروسز کو فروغ دینے کے لیے نئی قومی پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔ اس پالیسی کے تحت قومی سطح پر مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی نظام، جدید ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر اور طبی عملے کی نئی ٹیکنالوجی میں تربیت شامل ہوگی۔
کابینہ نے صحت کے شعبے میں اسمارٹ ایپلی کیشنز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے وفاقی قانون تیار کرنے کی بھی منظوری دی، جس کے تحت اے آئی سے چلنے والے طبی نظاموں کی تیاری، لائسنسنگ، منظوری اور استعمال کے لیے یکساں قانونی فریم ورک قائم کیا جائے گا۔
اجلاس میں قازقستان، پاناما، سربیا، آسٹریا، موناکو اور دیگر ممالک کے ساتھ 15 بین الاقوامی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی منظوری بھی دی گئی، جن میں سرمایہ کاری، سفارتی تعاون، تعلیمی روابط، مالیاتی شعبہ اور موسمیاتی تعاون شامل ہیں۔







