
خلیج اردو
عید الاضحیٰ کی خوشیوں کے دوران بچوں کو مہندی لگانے کا رجحان ایک عام روایت ہے، تاہم ماہرِ جلدی امراض ڈاکٹر سلیم انتابی نے اس حوالے سے والدین کو سخت احتیاط کی وارننگ جاری کی ہے۔
ڈاکٹر سلیم انتابی، جو 30 سال سے زائد تجربہ رکھنے والے ماہرِ جلدی امراض ہیں، کے مطابق کئی ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں بچوں کی عام یا سیاہ مہندی نے جلد کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایک 7 سالہ بچی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کی جلد پر لگائی گئی مہندی نے جلد ہی شدید ردعمل پیدا کیا اور نتیجتاً سیکنڈ ڈگری برن (جلنے کا زخم) اور مستقل سفید نشان بن گیا جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر کے مطابق سب سے زیادہ خطرہ “بلیک مہندی” سے ہوتا ہے جس میں پیرا فینائلین ڈائی امین (پی پی ڈی) نامی کیمیکل شامل ہوتا ہے۔ یہ مادہ بین الاقوامی طور پر صرف بالوں کے رنگ میں استعمال کی اجازت رکھتا ہے، جلد پر لگانا سخت نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ قدرتی مہندی بھی بچوں کے لیے محفوظ نہیں، کیونکہ بچوں کی جلد زیادہ نازک، پتلی اور حساس ہوتی ہے۔ معمولی سی چیز بھی ان میں شدید الرجی، جلن اور سوزش پیدا کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر نے ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بچے کا کیس ملا جس کی جلد پر مہندی سے چھالے پڑ گئے تھے اور وہ اسے جلنے کے زخم کی طرح علاج کرنے پر مجبور ہوئے، جس کے بعد جلد پر مستقل سفید نشان رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ عید کے دوران شاپنگ مالز اور تقریبات میں بچوں کے لیے بننے والے “عارضی ٹیٹو” بھی خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے کیمیکل اکثر غیر واضح اور غیر منظور شدہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم انتابی نے والدین کو چند اہم ہدایات بھی دیں:
- بچوں کے لیے بلیک مہندی مکمل طور پر استعمال نہ کریں
- 1 سے 3 سال کے بچوں کو کسی بھی قسم کی مہندی نہ لگائیں
- پہلے جلد کے چھوٹے حصے پر ٹیسٹ کریں
- منظور شدہ اور محفوظ مواد ہی استعمال کریں
- گھر پہنچ کر فوری طور پر مہندی یا ٹیٹو صاف کریں
- کسی بھی ردعمل کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
انہوں نے کہا کہ “عید خوشیوں اور یادوں کا نام ہے، بچوں کی جلد پر مستقل نشانات چھوڑنے کا نہیں۔”







