
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے دوران کرداروں کی گڈمڈ صورتحال خطے کے لیے انتہائی خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “متاثرہ فریق” اور “ثالث” کے کردار آپس میں خلط ملط ہو چکے ہیں جبکہ بعض اتحادی حمایتی بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خلیجی خطہ جدید تاریخ کے سب سے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق “غیر واضح اور سرمئی مؤقف، بغیر مؤقف کے رہنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے”۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ خلیج کے اردگرد موجود بعض ممالک بحران میں دوہرا کردار ادا کر رہے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 19 مئی کو ایران پر منصوبہ بند فوجی کارروائی تین خلیجی رہنماؤں کی درخواست پر مؤخر کی، جن میں شیخ محمد بن زاید آل نہیان بھی شامل تھے۔
17 مئی کو ابو ظہبی کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو تین ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک پلانٹ کے قریب گر کر بیرونی جنریٹر میں آگ کا باعث بنا۔ حکام نے واضح کیا کہ تابکاری کی سطح محفوظ رہی اور کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ڈاکٹر انور قرقاش نے اس حملے کو “دہشت گردی” اور “خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ متحدہ عرب امارات اور اس کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کی جانوں سے مجرمانہ لاپروائی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ چاہے براہ راست کیا گیا ہو یا کسی پراکسی کے ذریعے، یہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ “کوئی بھی طاقت متحدہ عرب امارات کو دباؤ میں نہیں لا سکتی اور نہ ہی اس کے امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے وژن کو نقصان پہنچا سکتی ہے”۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قرقاش کے حالیہ بیانات خلیجی ممالک کو ایران کے معاملے پر واضح اور متحد مؤقف اپنانے کا پیغام دے رہے ہیں۔







