متحدہ عرب امارات

عید تعطیلات میں ہوم ورک ہونا چاہیے یا نہیں؟ یو اے ای میں والدین اور اسکولوں کے درمیان نئی بحث شدت اختیار کر گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں عید کی نو روزہ تعطیلات قریب آتے ہی ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا بچوں کو چھٹیوں میں ہوم ورک دیا جانا چاہیے یا مکمل آرام کا موقع ملنا چاہیے۔ کئی خاندان بیرون ملک سفر اور خاندانی مصروفیات کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ والدین بچوں کی تعلیمی روٹین برقرار رکھنے یا مکمل وقفہ دینے کے معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔

14 سالہ مارک کیوان کا کہنا ہے کہ “ہلکی پھلکی ریویژن اسکول واپسی کو آسان بناتی ہے، خاص طور پر سینئر کلاسز میں پڑھائی کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔” دوسری جانب 9 سالہ صلاح فہمی کے مطابق “چھٹیاں صرف کھیلنے، آرام کرنے اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے ہونی چاہئیں، ہر وقت پڑھائی کیلئے نہیں۔”

متعدد والدین کا خیال ہے کہ روزانہ تھوڑی دیر مطالعہ، لکھائی اور ریویژن بچوں کو پڑھائی سے جڑے رہنے میں مدد دیتی ہے۔ آریپتا پال نامی والدہ کے مطابق “روزانہ ایک دو گھنٹے کی ہلکی تعلیمی سرگرمی بچوں کو دوبارہ روٹین میں آنے میں آسانی دیتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی ہاتھ سے لکھنے کی عادت اہم رہے گی۔

کئی والدین نے اعتراف کیا کہ وقت کے ساتھ ان کی سوچ بدلی ہے۔ شریا چکربورتی نے کہا کہ ان کے زمانے میں چھٹیوں کا ہوم ورک لازمی ہوتا تھا اور سفر کے دوران بھی کتابیں ساتھ لے جائی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق اس معمول نے نظم و ضبط سکھایا۔ فلپائنی والد بین راموس نے بھی کہا کہ طالبعلمی کے دور میں وہ ہوم ورک ناپسند کرتے تھے لیکن اب بطور والد اس کی افادیت سمجھتے ہیں۔

دوسری طرف بعض والدین چھٹیوں کو مکمل آرام کا وقت قرار دیتے ہیں۔ مصری خاتون یاسمین محمود کے مطابق ان کے بچپن میں گرمیوں کی چھٹیاں واقعی چھٹیاں ہوتی تھیں جن میں کوئی اسکول ورک شامل نہیں ہوتا تھا۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ بڑی عمر کے طلبہ کو محدود ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔

اسکول انتظامیہ نے متوازن حکمت عملی پر زور دیا ہے۔ جیبل علی اسکول کے پرنسپل سائمن جوڈرل کے مطابق عید جیسے مواقع خاندان اور ذہنی سکون کیلئے اہم ہیں اور آرام یافتہ طلبہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

اسی طرح جمیرا بیکلاوریٹ اسکول کے پرنسپل رچرڈ جان ڈریو نے کہا کہ امتحانی جماعتوں کے طلبہ کیلئے مختصر اور بامقصد ریویژن مفید رہتی ہے، تاہم کھیل، ورزش، مطالعہ اور بیرونی سرگرمیوں کا توازن ضروری ہے۔

دی انڈین ہائی گروپ آف اسکولز کے سی ای او پونیت واسو نے کہا کہ “مختصر 30 سے 40 منٹ کے پاور اسٹڈی بلاکس طلبہ کو ذہنی دباؤ سے بچاتے ہیں اور مسلسل مطالعے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔”

ادھر شارجہ انڈین اسکول کے پرنسپل پرمود مہاجن کا کہنا ہے کہ آج کل تعطیلاتی اسائنمنٹس لازمی ہوم ورک کے بجائے عملی اور تجرباتی سیکھنے پر مبنی ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق عید کی سیر و تفریح یا خاندانی سرگرمیوں پر رپورٹ لکھنا بھی تعلیمی سرگرمی بن سکتی ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق موجودہ رجحان یہی ہے کہ تعطیلات میں بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے سیکھنے، آرام اور خاندانی وقت کے درمیان متوازن ماحول فراہم کیا جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button