
خلیج اردو
بھارت میں نوجوانوں کی ایک نئی آن لائن تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی” سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ نام بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر طنزیہ انداز میں رکھا گیا ہے۔ تحریک کا آغاز بھارتی نژاد سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے کیا، جو اس وقت امریکا میں مقیم ہیں۔
یہ تحریک اس وقت سامنے آئی جب سوریا کانت کا ایک بیان وائرل ہوا جس میں انہوں نے بعض بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” اور “پیراسائٹس” سے تشبیہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ نوکری حاصل نہیں کر پاتے وہ صحافت، سوشل میڈیا یا آر ٹی آئی سرگرمیوں میں شامل ہو کر “نظام پر حملہ” کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت دی کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا اشارہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں آنے والوں کی جانب تھا، تاہم اس تبصرے نے بھارتی نوجوانوں میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 9.9 فیصد جبکہ شہری نوجوانوں میں 13.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
“کاکروچ جنتا پارٹی” صرف ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پر ایک کروڑ تریسٹھ لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر چکی ہے، جو حکمران جماعت کے فالوورز سے بھی زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ باقاعدہ سیاسی جماعت نہیں اور اس کے امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، لیکن یہ نوجوانوں کی ناراضی اور سیاسی شعور کی نئی علامت بن گئی ہے۔
تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ بھارتی نوجوان غیر آئینی راستہ اختیار نہیں کریں گے بلکہ جمہوری انداز میں احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق “بھارت کے نوجوان باشعور، ذمہ دار اور سیاسی طور پر پہلے سے زیادہ متحرک ہیں۔”
تحریک کے منشور میں عدلیہ اور انتخابی نظام سے متعلق سخت نکات شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کو ایوانِ بالا کی نشست نہ دی جائے، ووٹ حذف کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، خواتین کو پچاس فیصد نمائندگی دی جائے اور بڑی کارپوریٹ میڈیا کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات کی جائیں۔
رپورٹ میں “گودی میڈیا” کی اصطلاح کا بھی ذکر کیا گیا، جسے معروف بھارتی صحافی رویش کمار نے مقبول بنایا۔ اس اصطلاح سے مراد ایسے میڈیا ادارے ہیں جن پر حکمران جماعت کے قریب ہونے کے الزامات لگتے ہیں۔ عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر ہے۔
ابھیجیت دیپکے اس سے قبل عام آدمی پارٹی کی ڈیجیٹل مہمات سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں اور 2020 کے دہلی انتخابات میں میم بیسڈ آن لائن مہمات میں کردار ادا کر چکے ہیں۔







