
خلیج اردو
دبئی میں نارنجی اور سرخ پھولوں سے پہچانے جانے والے مشہور “فلیم ٹری” اب صرف خوبصورتی کی علامت نہیں رہے بلکہ یہ گرمی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دبئی میونسپلٹی کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ درخت اپنے نیچے زمین کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر سکتے ہیں۔
دبئی میونسپلٹی کے محکمہ زراعت میں کمیونٹی اقدامات کی سربراہ خولا العلی نے بتایا کہ فلیم ٹری کا گھنا سایہ 15 میٹر تک پھیل سکتا ہے، جو گرمیوں میں نہ صرف ٹھنڈک فراہم کرتا ہے بلکہ شہری ماحول کو زیادہ آرام دہ بناتا ہے۔
یہ درخت، جسے سائنسی طور پر ڈیلونکس ریجیا کہا جاتا ہے، اصل میں مڈغاسکر سے تعلق رکھتا ہے اور کئی دہائیاں قبل دبئی میں شہری سرسبزی منصوبوں کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ اسے صحرائی ماحول میں موزوں ہونے، گھنے سائے اور دلکش موسمی پھولوں کی وجہ سے منتخب کیا گیا۔
فلیم ٹری کے سرخ و نارنجی پھول اپریل کے آخر سے جولائی کے آغاز تک کھلتے ہیں جبکہ مئی اور جون میں ان کا حسن عروج پر ہوتا ہے۔ یہ درخت اب جمیرا، السفا، الرشیدیہ، دیرا اور بردبئی سمیت کئی علاقوں کی پہچان بن چکے ہیں۔
ٹیرا ایکسپو سٹی دبئی کی ماحولیاتی پروگرام سربراہ شینا خان نے کہا کہ یہ درخت برسوں سے دبئی کی ثقافتی اور موسمی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق فلیم ٹری کے پھول گرمیوں کی آمد، اسکولوں کی تعطیلات اور عوامی مقامات پر سایہ دار ماحول کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے باقاعدہ طور پر “فلیم ٹری سیزن” کا آغاز کیا ہے تاکہ شہریوں کو قدرتی حسن، عوامی مقامات اور ماحول دوست طرزِ زندگی سے جوڑا جا سکے۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق شہر بھر میں فلیم ٹری کی تعداد مزید بڑھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ آئندہ کمیونٹی شجرکاری، پودوں کی تقسیم اور تعلیمی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔
ماہرین نے اس اقدام کو دنیا کے دیگر مشہور موسمی تہواروں جیسا قرار دیا، جن میں چیری بلاسم فیسٹیول اور کیوکین ہوف شامل ہیں۔







