
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کمپنیاں باصلاحیت ملازمین کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی طبی انشورنس اور سفری الاؤنس سے آگے بڑھتے ہوئے نئی سہولتیں متعارف کرا رہی ہیں، جن میں ذہنی صحت کی معاونت، فلاحی الاؤنس، لچکدار اور ہائبرڈ کام، سیکھنے کے بجٹ، مالی منصوبہ بندی اور وصیت سازی جیسی خدمات شامل ہیں۔
انسانی وسائل کے ماہرین کے مطابق تنخواہوں میں اوسطاً صرف چار فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ادارے اب ملازمین کو متوجہ رکھنے کے لیے اضافی مراعات اور فلاحی سہولتوں پر توجہ دے رہے ہیں۔
ایڈیکو یو اے ای کے سیلز اور آپریشنز سربراہ سنجیو گری نے کہا، "اصل تبدیلی یہ نہیں کہ آجر زیادہ فراخ دل ہو گئے ہیں بلکہ اب صرف تنخواہ کے ذریعے مقابلہ ممکن نہیں رہا، اس لیے توجہ ایسے فوائد پر مرکوز ہو گئی ہے جو ملازمین کا اعتماد بڑھائیں۔”
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سب سے اہم فوائد وہ ہیں جو ملازمین کی مجموعی فلاح، ذہنی سکون اور طویل المدتی مالی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اسی وجہ سے کمپنیاں ذہنی صحت کی سہولتوں، فلاحی الاؤنس، لچکدار کام کے نظام اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مختص بجٹ فراہم کر رہی ہیں۔
سنجیو گری کے مطابق مالی فلاح و بہبود ایک تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ بن چکا ہے۔ جدید بچت اسکیموں کے ذریعے اب کمپنیاں روایتی گریجویٹی نظام کے متبادل بھی پیش کر سکتی ہیں، جن میں ملازمین کے فنڈز کو سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں بعض بڑی کمپنیاں، خصوصاً دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں قائم ادارے، اپنے ملازمین کو وصیت تیار کرنے اور وراثتی منصوبہ بندی کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی ملازمین کو اپنے خاندان اور اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ اعتماد فراہم کرنا ہے۔
جسٹ ولز لیگل کنسلٹنٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد مریعہ نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں وراثتی منصوبہ بندی اور قانونی رہنمائی سے متعلق کارپوریٹ طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی وسائل کے شعبے اب ملازمین میں وراثت، سرپرستی اور اثاثوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی پیدا کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی برسوں تک ملازمین کی سہولتیں صرف صحت اور انشورنس تک محدود تھیں، لیکن اب رجحان طویل المدتی قانونی اور مالی منصوبہ بندی کی جانب بڑھ رہا ہے، خصوصاً ایسے غیر ملکی افراد کے لیے جو متحدہ عرب امارات میں جائیداد، خاندان اور مالی مفادات رکھتے ہیں۔
یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید آجر اب ملازمین کی صرف پیشہ ورانہ ضروریات ہی نہیں بلکہ ان کے مستقبل، خاندان اور ذہنی سکون کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔







