
خلیج اردو
نئی دہلی میں سینکڑوں طلبہ نے حالیہ اہم امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچوں کے لیک ہونے اور تکنیکی خرابیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت طنزیہ سیاسی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے کی، جس کے شرکاء نے کاغذی کاکروچ ماسک پہن کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔ احتجاج میں شریک 16 سالہ طالب علم اتکرش راج نے کہا کہ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ ملک میں بار بار امتحانی پرچے کیسے لیک ہو جاتے ہیں۔
اس احتجاج کی قیادت 30 سالہ ابھجیت دیپکے نے کی، جو امریکا سے نئی دہلی پہنچے۔ ان کی قائم کردہ کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ آغاز کے بعد سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوانوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوان اب خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
یہ تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب بھارتی سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت سے منسوب ایک بیان سامنے آیا جس میں مبینہ طور پر حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو "کاکروچ” اور "پیراسائٹ” قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
گزشتہ ماہ حکام نے طبی کالجوں میں داخلے کے قومی امتحان کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے انکشاف کے بعد منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے امتحانات میں آن لائن مارکنگ سسٹم سے متعلق تنازع بھی سامنے آیا، جس سے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔
احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا مستقبل ایسے امتحانات سے وابستہ ہے، اس لیے امتحانی نظام کی ساکھ اور شفافیت بحال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ماہرین کے مطابق تیز معاشی ترقی کے باوجود روزگار کے محدود مواقع اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح بھی اس بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے۔







