Uncategorized

بحرین کا ایران پر سخت تنقیدی وار، میزائل اور بارودی سرنگوں سے سلامتی قائم نہیں ہو سکتی، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

خلیج اردو
بحرین نے ایران کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی میزائلوں، ڈرونز یا بارودی سرنگوں کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتی۔ بحرینی وزارت خارجہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے اور امن کا راستہ اختیار کرے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ "صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے”۔ بحرین خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بحرینی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب سات بیلسٹک میزائل داغے، جنہیں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ بحرین نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خلیجی خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ استحکام بارودی سرنگیں بچھانے یا ڈرون حملوں سے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ بحرین نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری بارودی سرنگوں کے مقامات ظاہر کرے اور انہیں ہٹانے کے لیے تعاون فراہم کرے۔

بحرین کا کہنا تھا کہ آج میزائل اور ڈرون حملے کرنے والوں کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا وہ امن اور تعاون کی راہ اپنائیں یا خود کو عالمی تنہائی اور حاشیے پر دھکیل دیں۔

وزارت خارجہ نے مزید مطالبہ کیا کہ ایران بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی اور اضافی فیس کے مکمل طور پر کھول دے۔ بیان کے مطابق 20 ہزار سے زائد ملاح سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں، اس لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محفوظ بحری راہداری فراہم کی جائے تاکہ تجارتی جہازوں اور ملاحوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button