
خلیج اردو
بھارت کی ریاست آسام میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد متحدہ عرب امارات میں مقیم آسام سے تعلق رکھنے والے افراد نے متاثرین کی مدد کے لیے 35 ہزار درہم سے زائد رقم جمع کرکے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔
دبئی میں مقیم انشورنس کے شعبے سے وابستہ اتپل بروآ، سومن بوردولئی اور پرتیک تالقدار نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں صرف 10 دن میں 35 ہزار درہم سے زائد رقم جمع ہو گئی۔
امدادی مہم میں متحدہ عرب امارات میں مقیم آسامی برادری نے بھرپور حصہ لیا۔ پرتیک تالقدار کے مطابق یو اے ای میں آسامی برادری کی تعداد صرف 300 سے 400 افراد کے درمیان ہے، اس کے باوجود مختصر وقت میں اتنی بڑی رقم جمع کرنا ایک اہم کامیابی ہے۔
19 جولائی کو آنے والے سیلاب نے آسام کے کئی اضلاع، جن میں شیوا ساگر، چارائیڈیو، گولاگھاٹ اور جورہاٹ شامل ہیں، کو شدید متاثر کیا۔ اس قدرتی آفت میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔
4 اگست کو اتپل بروآ اور سومن بوردولئی دبئی سے گوہاٹی جانے والی براہِ راست پرواز کے ذریعے امدادی سامان لے کر آسام پہنچے، جہاں انہوں نے سابق تارکینِ وطن کے ساتھ مل کر سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
متاثرہ بچوں میں اسکول بیگ، کاپیاں، پینسلیں، نوٹ بکس اور دیگر تعلیمی سامان تقسیم کیا گیا، جبکہ خواتین اور خاندانوں کے لیے پریشر ککر، طبی سامان، صفائی کے لیے ضروری اشیا اور حفظانِ صحت کی کٹس بھی فراہم کی گئیں۔
اتپل بروآ نے بتایا کہ ان کا تعلق دنیا کے سب سے بڑے آباد میٹھے پانی کے جزیرے ماجولی سے ہے، جہاں سیلاب ایک معمول کی بات ہے، لیکن اس بار آنے والی تباہی ان کے لیے بھی ناقابلِ یقین تھی۔
انہوں نے کہا کہ کئی دیہات میں گھر مکمل طور پر بہہ گئے اور بعض مقامات پر صرف عمارتوں کی بنیادیں باقی رہ گئی ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد انہوں نے اندازہ لگایا کہ بچوں کی دوبارہ اسکول واپسی میں کم از کم دو ماہ لگ سکتے ہیں، کیونکہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمیرِ نو میں کافی وقت درکار ہوگا۔







