Uncategorized

یو اے ای میں 2026 کی جاب مارکیٹ، درجنوں درخواستوں کے باوجود سی وی کیوں نظر انداز ہو رہے ہیں؟ ریکروٹرز نے اہم وجوہات بتا دیں

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی تلاش کرنے والے افراد کی جانب سے درجنوں بلکہ سیکڑوں نوکریوں کے لیے درخواستیں دینا عام ہوگیا ہے تاہم ریکروٹرز کا کہنا ہے کہ صرف زیادہ تعداد میں درخواستیں بھیجنا اب انٹرویو حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔

ملازمت دینے والی کمپنیوں کو ایک ہی آسامی کے لیے سیکڑوں درخواستیں موصول ہورہی ہیں جبکہ کئی ادارے امیدواروں کی ابتدائی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی AI پر مبنی اسکریننگ ٹولز بھی استعمال کررہے ہیں۔

ایسے میں ہر نوکری کے لیے ایک ہی سی وی بھیجنے والے امیدواروں کے لیے نمایاں ہونا پہلے سے زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔

TASC Outsourcing کے گروپ چیئرمین مہیش شاہدادپوری کے مطابق آج کل سب سے بڑا مسئلہ امیدوار کے پروفائل اور کمپنی کی مخصوص ضرورت کے درمیان مطابقت کا فقدان ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو امیدوار سیکڑوں آسامیوں پر ایک ہی سی وی کے ساتھ درخواست دیتے ہیں وہ انتہائی مسابقتی مارکیٹ میں اپنی شناخت بنانے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

یو اے ای میں بھرتیوں میں کمی

نئی Naukrigulf Hiring Index رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل اور مئی کے دوران یو اے ای میں بھرتیوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

کم تنخواہ والی اور انٹری لیول ملازمتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

TERN Group کے بانی اور سی ای او اویناو نگم کے مطابق بھرتیوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ خطے میں پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال تھی۔

ان کے مطابق بہت سی کمپنیوں نے بھرتیاں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں کچھ عرصے کے لیے مؤخر کردیا۔

انٹری لیول امیدوار سب سے زیادہ متاثر

ریکروٹرز کے مطابق نئے اور کم تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو اس وقت سب سے زیادہ مقابلے کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہانہ 10 ہزار درہم تک تنخواہ والی آسامیوں میں 26 فیصد کمی ہوئی جبکہ 11 ہزار سے 20 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ والی ملازمتوں میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس کے مقابلے میں 41 ہزار سے 80 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ والی آسامیوں میں کمی صرف 11 فیصد رہی۔

ماہرین کے مطابق غیر یقینی صورتحال میں کمپنیاں عموماً ایسے سینئر ملازمین کی بھرتی کو ترجیح دیتی ہیں جو کاروبار اور آمدنی کے لیے اہم ہوں جبکہ انٹری لیول بھرتیوں کو بعد کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔

AI امیدواروں کے لیے مددگار یا رکاوٹ؟

ریکروٹرز کا کہنا ہے کہ AI نے ملازمتوں کے لیے درخواست دینا آسان ضرور کردیا ہے لیکن اسی وجہ سے ہر آسامی کے لیے امیدواروں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔

ایک آسامی کے لیے چند ہی دنوں میں سیکڑوں درخواستیں موصول ہونا اب عام بات بن چکا ہے۔

TERN Group کے سربراہ کے مطابق جب درخواست دینا صرف چند سیکنڈ کا کام بن جائے تو بہت سے لوگ تقریباً ہر دستیاب نوکری کے لیے درخواست دینا شروع کردیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جس آسامی کے لیے پہلے 200 درخواستیں آتی تھیں وہاں اب 2 ہزار درخواستیں بھی موصول ہوسکتی ہیں جس کے نتیجے میں اچھے امیدوار بھی بڑی تعداد میں درخواستوں کے درمیان نظر انداز ہوجاتے ہیں۔

ریکروٹرز کے مطابق بعض AI اسکریننگ سسٹمز اب بھی امیدوار کی حقیقی صلاحیت کے بجائے سی وی میں موجود مخصوص Keywords کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

یو اے ای میں کن شعبوں میں مواقع موجود ہیں؟

ملازمتوں میں مجموعی سست روی کے باوجود کئی شعبوں میں بھرتیاں جاری ہیں۔

ان میں:

  • ٹیکنالوجی
  • مصنوعی ذہانت
  • مالیاتی خدمات
  • صحت کا شعبہ
  • قابلِ تجدید توانائی
  • لاجسٹکس
  • جدید مینوفیکچرنگ
  • کنسلٹنگ
  • کمپلائنس
  • سائبر سیکیورٹی
  • ڈیٹا اینالیٹکس

شامل ہیں۔

نوکری حاصل کرنے کے لیے کیا کریں؟

ریکروٹرز نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ ہر نوکری کے لیے ایک ہی سی وی بھیجنے کے بجائے متعلقہ آسامی کے مطابق سی وی میں تبدیلی کی جائے۔

امیدوار اپنی متعلقہ مہارتوں تجربے اور قابلِ پیمائش کامیابیوں کو نمایاں کریں جبکہ AI ڈیجیٹل لٹریسی ڈیٹا اینالیسس اور کمیونیکیشن جیسی مہارتوں میں مسلسل بہتری لائیں۔

ماہرین کے مطابق یو اے ای میں نیٹ ورکنگ بھی ملازمت حاصل کرنے کے مؤثر ترین طریقوں میں شامل ہے کیونکہ یہاں ذاتی اور پیشہ ورانہ روابط کے ذریعے ملازمت کے مواقع تک رسائی حاصل کرنا اب بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button