متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں بینکنگ ایپس میں بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہونے لگی، صارفین نے رازداری اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کا اظہار کر دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے بینکوں نے آن لائن لین دین کے لیے روایتی ون ٹائم پاس کوڈز اور سکیورٹی پنز کی جگہ ایپ کے اندر بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کو اپنانا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد فشنگ، آن لائن فراڈ اور مالیاتی دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

تاہم اس تبدیلی کے بعد بعض صارفین نے رازداری، رضامندی اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ دبئی کی ایک رہائشی نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانا ضروری ہے، لیکن بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی بنانا صارفین کے انتخاب کے حق کو محدود کرتا ہے۔

سائبر سکیورٹی ماہر اور کاسپرسکی کے لیڈ سکیورٹی ریسرچر ماہر یاموت کے مطابق بائیومیٹرک تصدیق عام طور پر ون ٹائم پاس کوڈز سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں مجرم عناصر کو بائیومیٹرک شناخت کی نقل بنانے کے مزید مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے بائیومیٹرک ڈیٹا کو مضبوط خفیہ کاری کے ذریعے محفوظ رکھیں، کیونکہ اگر پاس ورڈ یا پن چوری ہو جائے تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے قواعد کے مطابق مالیاتی اداروں کو صارفین کی شناختی معلومات کو غیر مجاز رسائی اور سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا اور بائیومیٹرک نظام کی مسلسل نگرانی کرنا ضروری ہے۔

ماہر یاموت نے تجویز دی کہ سب سے محفوظ طریقہ بائیومیٹرکس کے ساتھ پن یا پاس ورڈ کا مشترکہ استعمال ہے۔ ان کے مطابق دو یا تین سطحی تصدیقی نظام غیر مجاز رسائی کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔

دوسری جانب مارکیٹنگ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو ریہا سدرنگانی نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بائیومیٹرک تصدیق اب صارفین کے لیے انتخاب نہیں رہی۔ ان کے مطابق فنگر پرنٹ ہمیشہ درست طور پر کام نہیں کرتا اور صارفین کو متبادل کے طور پر پن یا پاس ورڈ استعمال کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق سہولت اور اضافی تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بینکوں کو سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کے ساتھ ساتھ متبادل تصدیقی طریقوں کی دستیابی پر بھی غور کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button