متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا 2031 تک 80 فیصد کچرا لینڈ فل سے ہٹانے کا ہدف، ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ مہم کا آغاز، تین سال میں 11 لینڈ فل سائٹس بند کرنے کا منصوبہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے 2031 تک 80 فیصد کچرے کو لینڈ فل سائٹس میں جانے سے روکنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے، جبکہ ہر سال پیدا ہونے والے تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ٹن ٹیکسٹائل فضلے کو ری سائیکل کرنے کے لیے نئی قومی مہم "نسیج” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والے کپڑوں اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کا بڑا حصہ اس وقت لینڈ فل سائٹس میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امارات میں سالانہ تقریباً 50 کروڑ ٹیکسٹائل اشیا استعمال کی جاتی ہیں جبکہ 88 فیصد استعمال شدہ کپڑے اور کپڑا لینڈ فل میں چلا جاتا ہے۔

تدویر گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایتیئن پوتی نے کہا کہ ملک کو 2031 تک لینڈ فل پر انحصار کم کرنے کا ہدف دیا گیا ہے اور آئندہ تین برسوں کے دوران 11 لینڈ فل سائٹس بند کی جائیں گی۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکسٹائل فضلے کی علیحدہ جمع آوری اور مؤثر ری سائیکلنگ ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نسیج پروگرام کے تحت کپڑوں اور دیگر ٹیکسٹائل مواد کے لیے الگ کلیکشن سسٹم قائم کیا جائے گا تاکہ انہیں دوبارہ استعمال، عطیہ یا ری سائیکلنگ کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں اب تک 14 نجی شعبے کی کمپنیوں اور صنعت کاروں کو شامل کیا جا چکا ہے۔

ایتیئن پوتی کے مطابق ری سائیکلنگ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مناسب علیحدگی اور جمع آوری کا نظام نہ ہونا ہے۔ اگر کپڑے خوراک، کاغذ یا دیگر گھریلو کچرے کے ساتھ مل جائیں تو ان کی ری سائیکلنگ انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اقسام کے کپڑوں کے لیے مختلف ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سوتی کپڑے نسبتاً آسانی سے ری سائیکل ہو سکتے ہیں جبکہ پولیسٹر اور مخلوط کپڑوں کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

نسیج منصوبہ صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات کے تحت شروع کیا گیا ہے اور یہ امارات کی سرکلر اکانومی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ معیشت عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ ٹیکسٹائل فضلے کو صرف کچرا نہیں بلکہ ایک معاشی موقع سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سالانہ پیدا ہونے والا 2 لاکھ 20 ہزار ٹن ٹیکسٹائل فضلہ نئی مصنوعات، صنعتی خام مال اور حتیٰ کہ تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

منصوبے کے آغاز پر یاس مال میں شہریوں کو خصوصی نسیج بیگز فراہم کیے گئے، جن میں پرانے کپڑے جمع کر کے کیو آر کوڈ کے ذریعے گھر سے کلیکشن کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد یہ اشیا عطیہ، دوبارہ استعمال یا ری سائیکلنگ کے لیے بھیجی جائیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی، ضروری انفراسٹرکچر اور خصوصی پلانٹس کے قیام پر کام کیا جائے گا تاکہ ٹیکسٹائل فضلے کو مؤثر انداز میں کارآمد مواد میں تبدیل کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button