
خلیج اردو
فلپائن کے دو اہم شہر Cainta اور Taytay اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت کا ایک بڑا حصہ ان بھارتی سپاہیوں کے مرہونِ منت ہیں جنہوں نے اٹھارویں صدی میں برطانوی فوج چھوڑ کر فلپائن میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1762 سے 1764 کے دوران Seven Years’ War کے دوران سینکڑوں بھارتی سپاہیوں، جنہیں "سپاہی” یا "سپوئے” کہا جاتا تھا، کو ہسپانوی قبضے والے منیلا پر حملے کے لیے فلپائن بھیجا تھا۔
جنگ کے اختتام پر Treaty of Paris کے تحت فلپائن دوبارہ ہسپانیہ کے حوالے کر دیا گیا، تاہم متعدد بھارتی سپاہیوں نے برطانوی فوج میں واپسی سے انکار کر دیا۔ ان میں سے کئی سپاہی منیلا کے مضافات میں واقع کائنتا اور تائتے میں آباد ہو گئے اور مقامی آبادی کا حصہ بن گئے۔
یہ علاقے زرخیز زمینوں، جھیلوں اور تجارتی راستوں کے باعث معاشی طور پر موزوں تھے۔ بھارتی سپاہیوں نے کھیتی باڑی اور ماہی گیری کو ذریعہ معاش بنایا اور مقامی خواتین سے شادیاں کر کے فلپائنی معاشرے میں ضم ہو گئے۔
ان سپاہیوں کی سب سے نمایاں ثقافتی وراثت فلپائنی کھانوں میں دیکھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق فلپائن کی مشہور چاولی مٹھائی Bibingka بھارتی میٹھے بے بنکا (Bebinca) سے متاثر ہو کر وجود میں آئی۔ اسی نسبت سے کائنتا کو آج "ببنگکا کیپیٹل آف دی فلپائنز” بھی کہا جاتا ہے۔
اسی طرح بھارتی سپاہیوں کو فلپائن کی معروف ڈش Kare-kare کی ارتقا کا سہرا بھی دیا جاتا ہے۔ یہ گائے کے گوشت پر مشتمل ایک مقبول کھانا ہے جس کی گریوی شکل میں سالن سے مشابہت رکھتی ہے، اگرچہ فلپائنی ذائقے کے مطابق اس میں مصالحوں کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ سپاہیوں کی اولاد مکمل طور پر فلپائنی معاشرے میں ضم ہو گئی۔ ان کی اکثریت نے کیتھولک مسیحی مذہب اختیار کر لیا اور مقامی ثقافتی و مذہبی روایات کا حصہ بن گئی۔ تاہم آج بھی بہت سے خاندان اپنے بھارتی پس منظر پر فخر کرتے ہیں۔
ان سپاہیوں کی خدمات کے اعتراف میں کائنتا کی مقامی حکومت نے 31 مئی کو "سپوئے ڈے” قرار دے رکھا ہے، جس کا مقصد فلپائن کی تاریخ، ثقافت اور کھانوں میں ان بھارتی آبادکاروں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔






