
خلیج اردو
بھارت کی ریاست اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں Hasta Mahananda تقریباً سات سال بعد متحدہ عرب امارات سے اپنے وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔ ان کی واپسی بھارتی قونصل خانے، اماراتی حکام اور خاندان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ہستا مہانندا 2019 میں ملازمت کے لیے متحدہ عرب امارات آئی تھیں۔ ابتدا میں انہیں ایک کمپنی نے مختلف ویزے پر ملک میں لایا، بعد ازاں وہ ایک بھارتی خاندان کے ہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے لگیں۔
خاتون 2022 میں اپنے آجر کے ساتھ ایک مرتبہ بھارت بھی گئیں، تاہم امارات واپس آنے کے بعد ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہ تو آزادانہ رابطے کی اجازت دی جاتی تھی اور نہ ہی وطن واپس جانے دیا جا رہا تھا۔
بھارتی قونصل خانے کے مطابق خاتون کا پاسپورٹ مبینہ طور پر اسپانسر کے پاس موجود تھا، جس کے باعث ان کی نقل و حرکت اور رابطے کی آزادی محدود ہو گئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اڑیسہ میں موجود ان کے اہل خانہ کا ان سے مکمل رابطہ ختم ہو گیا جس سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
اہل خانہ نے مختلف حکام سے رجوع کرنے کے بعد معاملہ اڑیسہ ہائی کورٹ میں اٹھایا۔ عدالت نے خاتون کی خیریت اور مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفارتی مشن سے رابطہ کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک مختصر فیس بک ویڈیو سامنے آئی جس میں ہستا مہانندا نے وطن واپسی کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔ تاہم ویڈیو میں ان کی شناخت سے متعلق تفصیلات موجود نہ ہونے کے باعث تلاش میں مشکلات پیش آئیں۔
بھارتی حکام نے عدالت کی فراہم کردہ تاریخ پیدائش، ویزا ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کی مدد سے بالآخر ان کے اسپانسر اور آجر کا سراغ لگا لیا۔ بعد ازاں 12 مئی کو کمپنی کا ایک نمائندہ ہستا مہانندا کو ساتھ لے کر دبئی میں بھارتی قونصل خانے پہنچا۔
قونصل خانے میں خاتون نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں، تاہم متعدد بار وطن واپس جانے کی اجازت طلب کرنے کے باوجود انہیں جانے نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد حکام نے آجر کو بقایا تنخواہ، سروس فوائد اور دیگر واجبات ادا کرنے اور ویزا منسوخی سمیت تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
چونکہ خاتون کے پاس بینک اکاؤنٹ یا سفری اخراجات کے لیے رقم موجود نہیں تھی، اس لیے بھارتی کمیونٹی ویلفیئر فنڈ کے ذریعے ان کے قیام، واپسی کے فضائی ٹکٹ، اوور اسٹے جرمانے اور سفری دستاویزات کا انتظام کیا گیا۔
ہستا مہانندا اب بھارت واپس پہنچ چکی ہیں اور جلد اپنی تین بیٹیوں سے دوبارہ مل سکیں گی۔ حکام کے مطابق مزدوروں کے استحصال یا ویزا بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور قصوروار کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔







