
خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان 100 روز سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی منظوری دینے کا بھی اعلان کیا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تہران نے مفاہمتی یادداشت کو اپنی حتمی شرائط شامل ہونے کے بعد قبول کیا۔ ان کے مطابق جنگ کے مستقل خاتمے کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا جس میں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، ایران کی تعمیر نو اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی جیسے معاملات شامل ہوں گے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل نے بھی معاہدے کے مسودے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اور تمام فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کر دی جائیں گی جبکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی مکمل طور پر اٹھا لی جائے گی۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق 14 نکاتی مسودہ معاہدے میں امریکی بحری ناکہ بندی کا 30 دن میں خاتمہ، ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر پابندیوں کی معطلی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کی تعمیر نو کے منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق شامل ہے۔
دوسری جانب قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے پاکستان اور دیگر علاقائی و عالمی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطر مذاکراتی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت یورپی ممالک نے بھی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مثبت پیش رفت کی صورت میں پابندیاں اٹھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں طویل مدتی استحکام کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔







