
خلیج اردو
ستاروں کی گردش کا مشاہدہ کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا جنتر منتر وقت کے ساتھ بھارت میں عوامی احتجاجوں کی سب سے نمایاں جگہ بن گیا۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب واقع یہ مقام اب ان لوگوں کی آخری امید سمجھا جاتا ہے جو اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔
18ویں صدی میں مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم کی جانب سے قائم کیا گیا یہ فلکیاتی رصدگاہ آج بھارت کی سیاسی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔
پارلیمنٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود جنتر منتر پر بھوک ہڑتالیں، دھرنے اور بڑے عوامی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ محدود راستوں اور آسان نگرانی کے باعث انتظامیہ کے لیے بھی یہ جگہ احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے نسبتاً آسان سمجھی جاتی ہے۔
جنتر منتر احتجاجی مقام کیسے بنا؟
1993 سے پہلے زیادہ تر احتجاج انڈیا گیٹ کے قریب بوٹ کلب لان میں ہوتے تھے کیونکہ یہ پارلیمنٹ اور سرکاری عمارتوں کے قریب تھا۔
1998 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں تقریباً 5 لاکھ کسانوں نے یہاں کئی دن تک احتجاج کیا، جس کے بعد حکومت نے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی۔
اس کے بعد جنتر منتر آہستہ آہستہ عوامی احتجاجوں کا مرکزی مقام بن گیا۔
2011: انا ہزارے کی کرپشن مخالف تحریک
اپریل 2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے نے جنتر منتر پر بدعنوانی کے خلاف قانون کے مطالبے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی۔
یہ تحریک دہلی سے نکل کر بھارت کے بڑے شہروں ممبئی، بنگلورو، چنئی اور احمد آباد تک پھیل گئی جبکہ بیرون ملک امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں بھی مظاہرے ہوئے۔
اس تحریک کے نتیجے میں لوک پال قانون کے مطالبے کو تقویت ملی اور بعد میں اسی تحریک سے اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی وجود میں آئی۔
2012: نربھیا انصاف تحریک
2012 میں دہلی میں 23 سالہ طالبہ کے اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
انڈیا گیٹ، رائسینا ہل اور جنتر منتر پر ہزاروں خواتین، طلبہ اور شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
احتجاج کے نتیجے میں فوجداری قانون میں تبدیلیاں کی گئیں اور زیادتی کے نتیجے میں موت یا مستقل معذوری کی صورت میں سزائے موت کی شق شامل کی گئی۔
2014: نائیڈو تانی احتجاج
2014 میں اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ طالب علم نائیڈو تانی کے قتل کے بعد شمال مشرقی بھارتی شہریوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔
جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں کے بعد حکومت نے شمال مشرقی علاقوں کے لوگوں کے تحفظ اور مسائل کے جائزے کے لیے کمیٹی قائم کی۔
2017: تامل ناڈو کسان احتجاج
2017 میں تامل ناڈو کے کسانوں نے خشک سالی اور قرضوں کے مسائل کے خلاف جنتر منتر پر 100 دن سے زائد احتجاج کیا۔
کسانوں نے قرض معافی اور مالی امداد سمیت کئی مطالبات پیش کیے۔ احتجاج کے دوران کسانوں نے انتہائی منفرد اور سخت طریقے اختیار کیے جنہوں نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔
2019: شہریت قانون کے خلاف احتجاج
شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف 2019 میں شروع ہونے والے مظاہرے دہلی تک پہنچے اور جنتر منتر بھی احتجاج کا مرکز بنا۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ قانون واپس لیا جائے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) نافذ نہ کیا جائے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہونے والی تحریک کئی مقامات تک پھیل گئی اور پولیس کارروائیوں کے بعد متعدد افراد گرفتار ہوئے۔
2023: بھارتی پہلوانوں کا احتجاج
بھارتی خواتین پہلوانوں نے 2023 میں جنتر منتر پر کئی ماہ تک دھرنا دیا۔
پہلوانوں نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ پر خواتین کھلاڑیوں کو ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے بعد فیڈریشن کے معاملات میں تبدیلیاں آئیں اور برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف عدالتی کارروائی بھی شروع ہوئی۔
2026: طلبہ کی تعلیمی تحریک
حالیہ دنوں میں میڈیکل داخلہ امتحان NEET کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف ہزاروں طلبہ جنتر منتر پر جمع ہوئے۔
طلبہ نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ان کے استعفے کو احتجاجی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
یہ تحریک نوجوانوں کی جانب سے نریندر مودی حکومت کے خلاف بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی جبکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی اس معاملے کی گونج سنائی دی۔
آن لائن طنزیہ انداز میں شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی مہم چند سو افراد سے شروع ہوئی تھی، لیکن بعد میں یہ روزگار کے مسائل اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کی بڑی آواز بن گئی۔







