متحدہ عرب امارات

والد القاعدہ کے حملے میں شہید، بھائی آج تک لاپتہ، عراقی اسٹرائیکر ایمن حسین نے ورلڈ کپ میں گول کر کے خواب حقیقت بنا دیا

خلیج اردو
ایمن حسین کی ورلڈ کپ تک رسائی صرف ایک کھیلوں کی کامیابی نہیں بلکہ مشکلات، قربانیوں اور ثابت قدمی کی ایک غیرمعمولی داستان ہے۔ عراق کے 30 سالہ اسٹرائیکر نے ذاتی سانحات کے باوجود اپنے ملک کو 40 سال بعد فٹبال ورلڈ کپ تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ورلڈ کپ میں عراق کے پہلے میچ میں ناروے نے عراق کو 4-1 سے شکست دی، تاہم عراق کی جانب سے واحد گول ایمن حسین نے کیا۔ میچ میں ناروے کے اسٹار فٹبالر ارلنگ ہالینڈ نے دو گول اسکور کیے اور بعد ازاں ایمن حسین کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے میدان میں ان سے مصافحہ بھی کیا۔

ایمن حسین کی زندگی مشکلات سے بھرپور رہی ہے۔ 2008 میں جب وہ صرف 12 سال کے تھے تو ان کے والد، جو عراقی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے، القاعدہ کے حملے میں شہید ہو گئے۔ وہ محاذ جنگ پر نہیں بلکہ اپنے خاندان کے لیے زیرِ تعمیر گھر کا سامان خریدنے جا رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

چند برس بعد ایمن حسین کے بھائی کو اغوا کر لیا گیا، تاہم آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان واقعات نے نوجوان فٹبالر کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا اور انہوں نے فٹبال چھوڑنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔

ایمن حسین کے مطابق وہ اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کھیل چھوڑنا چاہتے تھے، لیکن ان کی والدہ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ والدہ کی حوصلہ افزائی ہی وہ قوت بنی جس نے انہیں اپنے خواب کا تعاقب جاری رکھنے پر آمادہ رکھا۔

عراق کی ورلڈ کپ تک رسائی میں ایمن حسین کا کردار فیصلہ کن رہا۔ ایشیائی کوالیفائنگ مرحلے میں انہوں نے 12 گول اسکور کیے جبکہ رواں سال بین البراعظمی پلے آف میں بولیویا کے خلاف 2-1 کی فتح میں بھی فیصلہ کن گول کر کے عراق کی 40 سالہ انتظار کی داستان ختم کی۔

ورلڈ کپ کے آغاز سے صرف ایک ہفتہ قبل ایمن حسین کو شکاگو کے اوہیر ہوائی اڈے پر سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کے لیے روکے رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

ناروے کے خلاف گول کرنے کے بعد ایمن حسین نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور شکرانے کا اظہار کیا۔ یہ منظر ان تمام مشکلات پر فتح کی علامت تھا جنہوں نے کبھی ان کے خوابوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔

اب عراق کو گروپ مرحلے میں فرانس اور سینیگال جیسے مضبوط حریفوں کا سامنا ہے، لیکن ایمن حسین کی زندگی کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ وہ کسی بھی چیلنج سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button