متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، ماہرین نے نیند، تعلیم اور ذہنی صحت پر سنگین اثرات سے خبردار کیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کے فیصلے کو ماہرینِ نفسیات اور معالجین نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نیند، تعلیم، خود اعتمادی اور ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
ماہرین کے مطابق کئی بچے رات دیر تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کی صحت، تعلیم اور سماجی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

ابوظبی کے این ایم سی اسپیشلٹی ہسپتال کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شہانہ قاسم نے کہا کہ بعض بچے روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے مسلسل سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور اس دوران کھانے، سونے اور دیگر بنیادی ضروریات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

دبئی کے میڈیور ہسپتال کی ماہرِ اطفال ڈاکٹر ضیا عبدالرشید نے 13 سالہ بچے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ رات دو بجے تک خفیہ طور پر موبائل استعمال کرتا تھا، جس کے باعث اس کی نیند، تعلیمی کارکردگی اور ذہنی صحت متاثر ہوئی۔

برجیل میڈیکل سٹی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عامر جاوید کے مطابق بہت سے نوجوان اپنی اہمیت اور خود اعتمادی کو لائکس، تبصروں اور فالوورز کی تعداد سے جوڑ لیتے ہیں، جس سے ان کے موڈ اور ذہنی کیفیت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

میڈ کیئر کمالی کلینک کی کونسلر کیرولین یافے نے کہا کہ کئی بچے آن لائن گروپس اور رجحانات سے الگ رہنے کے خوف کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات تصاویر یا نجی معلومات کے غلط استعمال سے شدید ذہنی دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔

جذباتی ذہانت کی ماہر پرتیبھا تیواری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی زندگی نوجوانوں کو حقیقت سے دور کر رہی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کی ترقی کے بجائے آن لائن رجحانات کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا کہ صرف پابندیاں کافی نہیں بلکہ والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو بھی بچوں میں متوازن اور صحت مند ڈیجیٹل عادات پیدا کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مقصد ٹیکنالوجی کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button