متحدہ عرب امارات

دبئی کا نیا المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ 2032 سے سفر کا انداز بدل دے گا، چیک اِن قطاریں ختم، ٹرینوں سے ٹرمینلز تک رسائی اور سامان چند منٹ میں دستیاب ہوگا

خلیج اردو
دبئی میں 128 ارب درہم کی لاگت سے تعمیر ہونے والا المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ 2032 سے مرحلہ وار آپریشن شروع کرے گا، جہاں مسافروں کو طویل قطاروں، روایتی چیک اِن اور پیچیدہ سفری مراحل سے نجات دلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
نئے ایئرپورٹ میں مسافر سفر کے دوران ہی چیک اِن مکمل کر سکیں گے جبکہ سامان کی وصولی بھی چند منٹوں میں ممکن ہوگی۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پال گرفتھس کے مطابق نئے ایئرپورٹ کو "نو ریڈ لائٹس” تصور کے تحت ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مسافروں کو چیک اِن، امیگریشن، سکیورٹی اور کسٹمز کی طویل قطاروں سے بچانا ہے۔

منصوبے کے تحت مسافر ایئرپورٹ پہنچنے سے پہلے یا راستے میں ہی چیک اِن اور سامان جمع کرا سکیں گے، جس کے بعد انہیں براہ راست روانگی کے حصے تک مختصر اور آسان راستہ میسر ہوگا۔

وسیع رقبے پر مشتمل ایئرپورٹ میں زیر زمین خودکار مسافر ٹرین سسٹم نصب کیا جائے گا، جس میں 14 اسٹیشن ہوں گے۔ یہ ٹرینیں ٹرمینلز اور کانکورسز کے درمیان مسافروں کی تیز اور آسان نقل و حرکت یقینی بنائیں گی۔

ایئرپورٹ کو سڑک، ریل اور فضائی ٹرانسپورٹ کے مربوط نظام سے جوڑا جائے گا۔ قومی ریلوے منصوبے اتحاد ریل کا ایک اسٹیشن بھی دبئی ورلڈ سینٹرل پر قائم کیے جانے کا امکان ہے، جہاں مسافر ٹرین اسٹیشن سے ہی چیک اِن کر سکیں گے۔

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان تقریباً 55 کلومیٹر طویل ایئرپورٹ ایکسپریس لائن بھی زیر غور ہے، جو دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان سفر کو مزید آسان بنائے گی۔

نئے ایئرپورٹ کا جدید بیگیج ہینڈلنگ سسٹم ہر گھنٹے دسیوں ہزار بیگز پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ حکام کے مطابق آنے والے مسافروں کو اپنا سامان چند منٹوں میں دستیاب ہو سکے گا۔

مکمل ہونے پر المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سالانہ 26 کروڑ سے زائد مسافروں اور ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن فضائی کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے یہ دنیا کا سب سے بڑا فضائی مرکز بن جائے گا۔

منصوبے میں پانچ متوازی رن ویز، دو مسافر ٹرمینلز، سات کانکورسز اور 430 سے زائد طیاروں کے لیے پارکنگ اسٹینڈز شامل ہوں گے۔

دبئی کے حکام کے مطابق آنے والے برسوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تمام سرگرمیاں مرحلہ وار المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کر دی جائیں گی، جبکہ منتقلی مکمل ہونے کے بعد موجودہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بند کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ منصوبہ دبئی کو عالمی ہوا بازی، تجارت، سیاحت اور لاجسٹکس کے سب سے بڑے مراکز میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button