
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کرتے ہوئے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کی عمر کی تصدیق، اکاؤنٹس کی نگرانی اور سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرنا ہوں گے۔
قانون کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں 15 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی فعال نگرانی کریں گی اور ایسے اکاؤنٹس کو فوری طور پر معطل یا بند کرنا ہوگا۔
15 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو محدود اور ضابطہ شدہ رسائی دی جائے گی، تاہم ان کے اکاؤنٹس پر اضافی حفاظتی اقدامات اور نگرانی لاگو ہوگی۔
حکام کے مطابق اب صرف عمر خود درج کرنا کافی نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے جدید نظام استعمال کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک تصدیقی نظام یا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل سے منظور شدہ دیگر طریقہ کار استعمال کیے جا سکیں گے۔
عمر کی تصدیق کے تمام نظاموں کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور صارفین کو واضح طور پر بتایا جائے گا کہ یہ نظام کیسے کام کرتے ہیں۔
قانون میں بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ بچوں کے ڈیٹا کی کم سے کم مقدار جمع کی جائے گی، محفوظ طریقے سے پراسیس کیا جائے گا اور ضرورت ختم ہونے پر اسے حذف کرنا ہوگا۔
بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی یا رویوں کی بنیاد پر اشتہارات دکھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی تجارتی مقاصد کے لیے ان کی ڈیجیٹل معلومات سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق اگر والدین اپنے 15 سال سے کم عمر بچے کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دیں تو یہ پابندی سے استثنا نہیں سمجھا جائے گا۔
15 سے 16 سال عمر کے بچوں کے والدین کو اکاؤنٹ سیٹنگز کے حوالے سے کچھ اختیارات دیے جائیں گے، تاہم وہ پلیٹ فارمز کی جانب سے مقرر کردہ حفاظتی پابندیوں کو ختم نہیں کر سکیں گے۔
والدین اور سرپرستوں کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور محفوظ ڈیجیٹل عادات سکھانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
قانون پر عمل درآمد کی نگرانی نیشنل میڈیا اتھارٹی اور ٹیلی کمیونیکیشنز اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کریں گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں پلیٹ فارمز کو وارننگ، جزوی یا مکمل پابندی اور انتظامی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے خطرات کا جائزہ لے گی اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات تجویز کرے گی۔
یہ قانون بچوں کی آن لائن حفاظت، ذہنی صحت کے تحفظ اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام کی جانب متحدہ عرب امارات کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔







